نئی دہلی :(ایجنسی)
انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ (آئی ٹی چھاپہ) نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ایم ایل سی پشپ راج جین عرف پمپی جین کے ٹھکانوں پر چھاپہ مارکارروائی کی ہے۔ چھاپے کے بعد بی جے پی اور ایس پی کے درمیان سیاسی الزامات اور جوابی الزامات کا دور شروع ہو گیا ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے آج اکھلیش یادو پر اس وقت حملہ کیا جب چھاپے کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی ادارے جہاں بھی چھاپے مارنے جاتے ہیں ان کے پاس قابل عمل خفیہ جانکاری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معلومات کی بنیاد پر محکمہ انکم ٹیکس نے قنوج سے سماج وادی پارٹی قانون ساز کونسل کے ایک رکن سمیت اتر پردیش میں چھاپے مارے۔
گزشتہ دنوں پیوش جین کےٹھکانوںپر ہوئی چھاپہ مار کارروائی کے بارے میں نرملا سیتارامن نے کہا کہ جی ایس ٹی دھوکہ دہی کے معاملات سامنے آنے کے بعد جی ایس ٹی انٹیلی جنس کی جانب سے پرفیوم کے تاجر کے ٹھکانے پر چھاپے مارے گئےتھے۔ چھاپے کو جائز قرار دیتے ہوئے نرملا سیتا رمن نے کہا کہ اگر انتخابات آنے والے ہیں تو کیا مہورت نکال کر چور کو پکڑے جائیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’اکھلیش یادو کہہ رہے ہیں کہ چھاپوں کے دوران جو رقم برآمد ہوئی ہے وہ بی جے پی کی رقم ہے۔ وہ کیسے جانتے ہیں کہ وہ شراکت دار ہیں؟ اس لیے وہ اتنی مضبوطی سے بول رہے ہیں۔‘‘ وزیر خزانہ نے کہا، ’’میں کہہ رہی ہوں کہ بی جے پی کا پیسہ نہیں ہے۔ ان کا پارٹنرشپ ضرورہوسکتا ہے ۔‘‘
جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ نے سوالیہ لہجے میں کہا، ’’اگر چھاپے مارے گئے تو کیا ایجنسیاں خالی ہاتھ لوٹیں؟ پیسے ملے یا نہیں؟ کیا یوپی کے سابق سی ایم اکھلیش یادو خوفزدہ ہیں؟ کیا اکھلیش یادو کا کوئی مفادہے؟ وہ ہل گئے ہیں۔ آج بھی جو ریڈ چل رہی ہے اس میں پختہ جانکاری ہے۔ اکھلیش یادو کا فرض ہے کہ جنہوںنے غلط طریقے سے پیسے رکھے ان کی تنقید کرنی چاہئے۔‘‘
گزشتہ دنوں انکم ٹیکس او سنٹرل انڈریکٹ ٹیکس اور کسٹمز کے عہدیداروں نے کانپور کے تاجر پیوش جین کے مقام پر چھاپہ مارا تھا۔ اس چھاپے میں تقریباً 200 کروڑ روپے برآمد ہوئے۔ اس چھاپے کے بعد اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ جانچ ایجنسیوں نے بی جے پی کے قریبی کاروباریوں کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سماج وادی عطر (پرفیوم) ایس پی ایم ایل سی پشپ راج جین کے ذریعہ لانچ کیا گیا تھا نہ کہ پیوش جین نےلانچ کیا تھا۔










