تحریر: سیدہ حمید ؍ ریاض احمد
نیوز پورٹل ’ستیہ ہندی‘ پر ایک مباحثے کے دوران کچھ ایسی باتیں کہی گئیں جس کو سن کر ہر ہندوستانی کا سرشرم سے جھک جانا چاہئے تھا۔ صرف چند الفاظ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان اشونی شاہی نے اس ملک کے سب سے بلند دانشور پر اپنی ناخواندگی کی غندگی ڈالنے کی کوشش کی۔ اگر ان الفاظ کو بعین ہی دوہرایا جائے تو انہوں نے کہا:’’ جب ملک کا پہلا وزیر تعلیم ہی ناخواندہ ہوسکتا ہے تو ملک کا وزیر داخلہ کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔‘ ‘
اس کا سیاق و سباق انل مشرا اور ان کے بیٹے آشیش مشرا کی قاتلانہ حرکتوں کو چھپانا تھا۔ اس کا بہت ہی سٹیک جواب گورو دیپ سنگھ سپل نے بحث کے دوران ہی دیا۔ جس خوداعتمادی کے ساتھ اشونی شاہی نے کہاکہ ملک کا پہلا وزیر تعلیم ناخواندہ تھا۔ اسی اعتماد کے ساتھ اگر یہ بات ہزاروں بار دوہرائی جائےگی تو سچ ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کو ناخواندہ کہنا چاند پر کیچڑ اچھالنا ہے، جو کہ فطری قانون کے مطابق اسی چہرے پر گر جائےگا۔ جہاں سے اس کی ابتدا ہوئی ہو۔ اپنی زندگی کے بیس سال مولانا ابوالکلام آزاد کی لکھی ہوئی کارپس پر کام کیا ہے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد کو بچپن میں دیکھنے کا اعزام بھی ملا ہے اور ہمارا گھر مولانا ابوالکلام آزاد کی لکھی ہوئی کتابوں سے سزا ہوا تھا۔
جب ان کی عمر محض بارہ سال کی تھی تو انہوں نے اپنا پہلا جریدہ ’ لسان الصدیق ‘‘ ( سچ کی آواز ) نکالا ۔ جب وہ پندرہ سال کےتھے تب انہوں نے اپنا ’ درس نظامی‘ کا کورس مکمل کیا۔ جب وہ 16 سال کے ہوئے تب انہوں نے شاعری شروع کی۔ وہ جب چوبیس سال کے تھے تب انہوں نے اپنا جریدہ ہلال جاری کیا جو ملک کی آزادی کے لیے ایک مضبوط للکار تھا۔ جس میں انہوںنے مسلمانوں کو مذہب کاحوالہ دے کر ہدایت دی کہ وہ اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ مل کر آزادی کی لڑائی میں اپنے آپ کو جھونک دیں۔
انہوں نے اپنی زندگی کے کئی اہم سال علی پور جیل ، احمد نگر جیل اور رانچی جیل میں گزارے۔ اس دوران انہوں نے قرآن کریم کا ترجمہ کیااور اس کی تشریح لکھی۔ بار بار انگریز سپاہیوں نے ان کے مخطوط کو تباہ کردیا۔ مگر انہوں نے انہیں کاغذ کے ٹکرے کو اٹھا کر کام پھر سے شروع کیا۔ آج مولانا آزاد کا ترجمن القرآن ،قرآن کا سب سے معتبر اور مسند ترجمہ اور تشریح سمجھا جا تا ہے ۔ ان کی ذاتی لائبریری میں آٹھ ہزار کتابیں تھیں۔ اس میں اردو ، انگریزی ، فارسی ، سنسکرت، عربی ،فرنچ اور لاطینی زبان کی کتابیں موجود تھیں۔ اور ان کے حاشیے پر مولانا آزاد کے ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس، یہ پورا مجموعہ اپنے محبوب ادارے آئی سی سی آر کو تحفہ میں پیش کردیا۔ اس تالیف میں فارسی کی رامائن اور مہابھارت بھی تھی اور تصوف پر بہت اعلیٰ معیار کانسخہ بھی تھا ۔
پرشوتم داس ٹنڈن اور سیٹھ گووند داس کے بے بنیاد الزامات پر بہت ہی شائستہ الفاظ میں جواب دیتے۔ جو صحافی اسٹیج کے نیچے بیٹھ کر ہاتھ سے نوٹس بناتے وہ مولانا آزاد سے اپیل کرتے کہ اپنے خیالات کے روکو دھیررکھیں تاکہ کلم بند کرسکیں۔
’ستیہ ہندی‘ نیوز پورٹل پر اشونی کی باتیں سن کر لوگوں کو ان کی پوری حقیقت معلوم ہوئی۔ ہمارا ایک ہی سوال ہے کہاگر ان کو انل مشرا کے بچاؤ میں کچھ دلیل بھی دینی تھی تو وہ دیتے، لیکن اس طرح ملک کو جھوٹ کے سمندر میں دھکیلنے سے کیا فائدہ ہوا، سوائے اس کے کہ ان کی ناقابلیت دنیا کے روبرو آگئی۔
ہمیں شاہی سے کوئی لینادینا نہیں ہے اور ان کے اس گھٹیا الزام پر کچھ کہنا بھی میرے لیے وقت کو برباد کرنا ہے ۔ اس تحریر کو لکھنے کاصرف ایک مقصد ہے کہ لوگوں کے اندر جو زہر بھرا جا رہاہے اسے روکا جائے۔ آخر میں مولانا ابوالکلام آزاد کی زبان میں اس کا جواب اگر کچھ ہے تو بس یہ ہے کہ ہم بہت کچھ کہہ سکتے ہیں ۔ اور ہمیں بہت کچھ کہنے کی قوت بھی ہے مگر ہمارے خیالات اس کالے بازار میں بکاؤ نہیں ہیں۔
مولانا آزاد کہتے ہیں:
اندازہ جنون ، کون سا ہمیں نہیں مجنوں
پر تری طرح عشق کو رسوا نہیں کرتے
(بشکریہ: ستیہ ہندی)










