اردو
हिन्दी
اگست 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

عبوری راحت کا خیرمقدم، غیرقانونی ایکٹ کے خاتمہ تک قانونی وجمہوری جدوجہد جاری رہے گی:امیرجماعت

11 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
Jamaat chief statement on interim relief and illegal act
115
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی: امیر، جماعت اسلامی ہند، جناب سید سعادت اللہ حسینی نے وقف ترمیمی قانون پر سپریم کورٹ کے عبوری حکم پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ "عدالت نے وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 میں موجود بڑے آئینی نقائص کو بے نقاب کیا ہے اور حکومت کی جانب سے کلکٹرس و سرکاری افسران کے ذریعے وقف املاک میں بے جا تصرف کی کوششوں پر قدغن لگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مسلمان عدالت کی جانب سے دی گئی اس عبوری راحت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں خاص طور پر وقف املاک میں انتظامیہ کی بے جا مداخلت کے خلاف تحفظ اور واقف کے لیے 5 سال تک باعمل مسلمان رہنے کی نا قابل فہم شرائط کی معطلی ایک مناسب اقدام ہے تاہم اس سب کے باوجود ہمارے کئی اہم خدشات اور تحفظات اب بھی باقی ہیں، خاص طور پر "وقف بائے یوزر سے متعلق عبوری فیصلہ کافی تشویشناک ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں عدالت اعظمی وقف بائے یوزر پر دیے گئے موجودہ عبوری موقف پر ازسرنو غور کرے گی اور اپنے حتمی فیصلہ میں وقف بائے یوزر کو پوری طریقہ سے بحال کرے گی۔ مکمل انصاف کے حصول تک ہم اپنی قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔”


جناب حسینی نے مزید کہا کہ : "عدالت نے کلکٹرز اور نامزد افسران کو دیے گئے وہ وسیع اختیارات ختم کر دیے ہیں جن کے تحت وہ عدالتی فیصلے سے پہلے ہی وقف املاک کو سرکاری زمین قرار دے سکتے تھے۔ یہ فیصلہ ہمارے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ ترمیمی ایکٹ انتظامیہ کو وہ اختیارات دیتا ہے جو عدلیہ کے دائرہ کار میں آتے ہیں، اور یہ آئین کے بنیادی اصول، یعنی اختیارات کی علیحدگی، کی خلاف ورزی تھی۔ یہ فیصلہ عدالت اعظمی کی جانب سے وقف کے انتظام میں بلاجواز حکومتی مداخلت کی کھلی مذمت اور کمیونٹی کے خدشات کی تائید ہے۔ اسی طرح واقف کے لیے پانچ سال تک بس عمل مسلمان رہنے کی شرط کی معطلی بھی عدالت کی جانب سے ہمارے مؤقف کی تائید ہے۔ ہم مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ شرط امتیازی،ناقابل فہم اور ناقابلِ عمل ہے۔ اس شق کے حوالے سے عدلیہ کی مداخلت ظاہر کرتی ہے کہ ایسے غیر آئینی قوانین، عدالتی جانچ کی کسوٹی پر پورے نہیں اُتر سکتے۔ ہمیں امید ہے کہ حتمی فیصلے میں اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔”زیرِ التوا تنازعات کے حوالے سے امیر جماعت نے کہا کہ "عدالت نے حکام کو اس وقت تک محصولات کے ریکارڈ میں تبدیلی یا وقف املاک کو غیر تسلیم شدہ قرار دینے سے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ اوقاف کے تحفظ کے نقطہ نظر سے اہم ہے اور اوقاف کے نظام کو بغیر قانونی تقاضوں کو پورا کیے کمزور کرنے کی کوششوں کو ناکام اور بے نقاب کرتا ہے۔”


تاہم جماعت اسلامی ہند کا ماننا ہے کہ کئی اہم مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ جناب حسینی نے کہا کہ "وقف بایو کی شق کا خاتمہ اب بھی ہزاروں تاریخی مساجد، قبرستانوں اور عیدگاہوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جو اوقاف صدیوں سے بغیر رسمی دستاویزات کے قائم اور برقرار ہیں۔ ہم ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ ہندوستان جیسے ملک میں، جہاں تمام مذاہب کے بے شمار مذہبی ادارے بغیر دستاویزات کے برسوں سے موجود ہیں، وقف بائے یوزر کا اصول بہت ضروری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت ہمارے اس موقف کو اپنے حتمی فیصلے میں تسلیم کرے گی۔”
امیر جماعت نے تمام اوقافی جائیدادوں کی نئے قانون کے تحت رجسٹریشن کے لیے دی گئی مختصر مدت کو بھی غیر عملی قرار دیا، آپ نے فرمایا کہ "اتنے بڑے ملک میں، جہاں بہت سے ادارے انتہائی قدیم ہیں، دیہی علاقوں میں ہیں اور جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں ان کے لیے مختصر مدت میں رجسٹریشن کی شرط غیر حقیقی ہے۔ اس سے بےجا ہراسانی اور حقیقی اوقاف کو کمزور کرنے کا راستہ کھلے گا۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت اس مسئلے کا بھی حل نکالے گی۔”


عدالت کی جانب سے وقف اداروں میں غیر مسلم ممبران کی نامزدگی پر عبوری فیصلہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ "عدالت کا یہ فیصلہ کہ وقف بورڈز اور سنٹرل وقف کونسل میں مسلم اکثریت کا ہونا ضروری ہے مناسب ہے، لیکن غیر مسلم ممبران کی نامزدگی کی منطق اپنے آپ میں غلط ہے۔ یہ دعویٰ یا بہانہ کہ بہتر انتظامی کارکردگی یا ریاستی نگرانی صرف غیر مسلم ارکان کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ امتیازی بھی ہے۔ کسی مذہبی ادارے میں غیر متعلقہ افراد کو شامل کرنا کمیونٹی پر عدم اعتماد کا اظہار اور بے مداخلت کے مترادف ہے۔ دوسرے مذاہب کے اداروں پر ایسی شرائط لاگو نہیں ہوتیں، لہٰذا یہ شق ہمارے لیے ناقابلِ قبول ہے۔”بیان کے آخر میں امیر جماعت نے زور دیا کہ یہ صرف ایک عبوری فیصلہ ہے اور قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی: "یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وقف ترمیمی ایکٹ 2025 سنگین آئینی خامیوں کا شکار ہے۔ ان میں سے بعض کو اس عبوری فیصلے نے واضح کر دیا ہے، ہمیں امید ہے کہ دیگر مسائل کو حتمی فیصلہ میں حل کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی ہند دیگر انصاف پسند تنظیموں واداروں کے ساتھ مل کر اس غیر آئینی قانون کے مکمل خاتمے تک قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ ہم حکومت سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ آئینی اصولوں اور مسلمانوں کے تحفظات کی روشنی میں اس قانون کو فوری طور پر واپس لے۔”

ٹیگ: Democratic struggleIllegal actInterim reliefJamaat chiefLegal battleامیر جماعتجمہوری جدوجہدعبوری راحتغیر قانونی ایکٹقانونی لڑائی

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل
خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

22 جولائی
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل
خبریں

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

13 جولائی
Easy SIR Form Filing
خبریں

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

12 جولائی
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

2008 احمد آباد سیریل دھماکوں پر بڑا فیصلہ، 38 مجرموں کی سزائے موت برقرار، 11 کو عمر قید کی توثیق

جولائی 7, 2026
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Easy SIR Form Filing

بھارت میں مسلم ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جا رہے ہیں؟ UN کی رپورٹ میں بھارت کے SIR عمل پر سوالات

جولائی 12, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026

حالیہ خبریں

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جوہر یونیورسٹی بحران: طلبہ کے دھرنے میں پہنچا جماعت اسلامی ہند کا وفد، گورنر سے مداخلت کی اپیل

جولائی 22, 2026
اترپردیش: اس بار سڑکوں پر نہیں پڑھی جائے گی جمعۃ الوداع کی نماز: علما کی اپیل

136 سال پرانی تاریخی مسجد میں داخلہ بند، نماز پر بھی پابندی!

جولائی 13, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN