نئی دہلی( نامہ نگار)
کرناٹک ان دنوں حجاب تنازع کے سبب ابال پر ہے ۔ہندوتوا طاقتوں نے اس کو انتخابی ہتھکنڈہ بنانے کی کوشش کی ہے ۔وہیں مسلم لڑکیاں پوری قوت سے آئینی حق کے تحفظ کی جنگ لڑرہی ہیں ، آج مسکان نامی اسٹوڈنٹ نے پورے ملک کی توجہ مبذول کرلی ،جب بھگوا دھاریوں نے اس کا راستہ گھیرا اور اس لڑکی نے تن تنہا جنونی بھیڑ کا مقابلہ کیا ۔جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے اس کی جرأت کو سلام کیا اور جمعیۃ کی طرف سے حوصلہ افزائی کے طور پر پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔
سکریٹری جمعیۃ نیاز احمد فاروقی کی طرف سے جاری کردہ ریلیز کے مطابق اپنے آئینی و دینی حق کے لیے باد مخالف کی تند وتیز ہوا کے سامنے ڈٹ کر پورے حوصلے سے مقابلہ کرنے والی مہاتما گاندھی میموریل کالج اُڈپی کی بہادر طالبہ بی بی مسکان خاں ولد محمد حسین خاں ضلع منڈیا کرناٹک کو صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنی طرف سے اور جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے پرخلوص مبارک باد دی ہے اور اس کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیاہے۔
انہوں نے اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے اس بہادر بیٹی کو بطور حوصلہ افزائی مبلغ پانچ لاکھ روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ بی کام کی اس طالبہ نے اپنے حوصلے سے یہ پیغام دیا ہے کہ انصاف اور سچائی کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی ،ساتھ ہی ملک کی بیٹیوں کو اپنے حق کے لیے لڑنے کا حوصلہ بھی دیا ہے اور ایمان کی حفاظت کی تعلیم دی ہے۔ اس موقع پرجنرل سکریٹر ی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین قاسمی نے اس بہادر بیٹی کے اہل خانہ سے بات چیت کرکے صورت حال سے واقفیت حاصل کی اور یقین دلایا کہ جمعیۃ علماء ہندان کے ساتھ کھڑی ہے ۔










