سری نگر :(ایجنسی)
جموں و کشمیر میں پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کی ایک ماہر کمیٹی نے دو کتابوں میں اسلام کے خلاف متنازع مواد کا ذکر کیا ہے۔ کمیٹی نے کتاب میں قابل اعتراض مواد ملنے کے بعد تیسری اور پانچویں جماعت کی کتابوں پر پابندی لگانے کی سفارش کی۔
یہ کمیٹی دہلی کے ایک پبلشر کی جانب سے ISCE بورڈ کی تاریخ اور شہریت کے عنوان سے کتاب کا نمونہ سری نگر بھیجنے کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔ جس میں مبینہ طور پر کہا گیا ہے کہ ان کتابوں میں ممنوعہ تصویر کشی کی گئی ہے۔
مذکورہ واقعہ کے بعد PSAJK نے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں تمام اسکولوں سے کہا گیا ہے کہ جنہوں نے اپنے نصاب میں مخصوص کتابیں تجویز کی تھیں انہیں فوری طور پر ہٹا دیں۔ کمیٹی نے دی ہمالین پوسٹ کو بتایا کہ یہ ایک عام کتاب ہے اور اس کے سرورق پر کسی بورڈ کا ذکر نہیں ہے۔
ماہرین کی کمیٹی نے کہا کہ فرینکلن انٹرنیشنل، نئی دہلی کی شائع کردہ محبوب اردو میں قابل اعتراض مواد ہے۔ ایسوسی ایشن نے یہ کمیٹی ایک خاص کتاب میں قابل اعتراض مواد سے متعلق حالیہ تنازعہ کے بعد کشمیر بھر میں تنقید کا نشانہ بننے کے بعد تشکیل دی تھی۔
ماہرین کی کمیٹی کے چیئرمین خورشید بسمل نے کہا کہ جب ہم نے کتابوں کی جانچ شروع کی تو ہمیں معلوم ہوا کہ محبوب اردو کے نام سے دو اردو کتابوں میں اسلام کے خلاف قابل اعتراض مواد موجود ہے۔ ان کتابوں میں مختلف خاکے ہیں جن کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔ ایسی باتیں لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ ہم نے ایسی کتابوں کو نصاب سے فوری طور پر ہٹانے کی سفارش کی ہے۔
اسکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسی کتابوں کی ہر ایک کاپی اپنے اسٹاک سے اور ہر طالب علم سے بھی جمع کریں۔ ایسوسی ایشن نے اسکولوں کو مشورہ دیا کہ ایسی کتابوں کی تمام کاپیاں تلف کر دی جائیں۔ مزید برآں کشمیر میں بک ڈیلروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ مذکورہ کتابوں کا ذخیرہ اپنے مجموعے سے ہٹا دیں۔









