ممبئی : (ایجنسی)
افغانستان میں طالبان حکومت ہر روز خواتین کے خلاف نئے فرمان جاری کر رہی ہے۔ان فرمان پر کئی لوگ شدید رد عمل ظاہر کر رہے ہیں۔ اس تسلسل میں بالی ووڈ کے مصنف جاوید اختر نے طالبان کے فرمانوں کو لے کر مسلم تنظیموں پر حملہ بولا ہے۔
جاوید اختر نے طالبان کے اس فیصلے کی تنقید کرتے ہوئے غصہ ظاہر کیا ۔ جس میں طالبان نے نوکری پیشہ خواتین کو گھر کے اندر رہنے کا حکم صادر کیا ہے ۔ جاوید اختر نے فیصلوں کو لے کر ان تنظیموں پر نشانہ سادھتے نظر آئے ،جو مسلسل تین طلاق کا بچاؤ کررہے تھے ۔
جاوید اختر نے ٹویٹ کرکے کہاکہ ’ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کابل کے میئر نے تمام کام کرنے والی خواتین کو گھر پر رہنے کا حکم دیا ہے ۔ مجھے امید ہے کہ تمام اہم مسلم تنظیمیں اس کی تنقید کریں گے ،کیونکہ یہ ان کے مذہب کے نام پر کیاجا رہاہے ۔ وہ تمام کہاں ہے ، جو کل تک تین طلاق کے دفاع میں شور مچا رہے تھے ۔‘
افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین کے لیے زندگی مشکلات سے بھری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ لڑکیوں کے کھیل کود پر پہلے ہی پابندی لگا دی گئی ہے ۔ اب ان کے کام کرنے پر بھی ان حکم سے اپیل کی گئی ہے ۔ اس سے پہلے طالبان خواتین کی وزارت کو بھی بند کرچکاہے ۔
بتادیں کہ جاوید اختر پہلے بی جے پی اور آر ایس ایس کا موازنہ طالبان سے کرکےتنازع میں گھر چکے ہیں۔ اس بار جاوید اختر نے مسلم تنظیموں کو ہی نشانہ پر لے لیا ہے۔ دراصل جب مرکزی حکومت تین طلاق کے خلاف قانون بناتے ہوئےاسے غیر قانونی قرار دےرہی تھی تو کچھ مسلم تنظیم اور پارٹیاں اسے غلط بتا رہی تھیں ۔









