پٹنہ:(ایجنسی)
کرناٹک میں حجاب معاملے پر ہنگامہ کا اثر اب پورے ملک میں نظر آرہا ہے۔ پانچ ریاستوں میں انتخابی موسم کے درمیان حجاب پہننے کا تنازع اب شدید شکل اختیار کر رہا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ میں حجاب تنازع پر آج مسلسل دوسرے دن سماعت ہو رہی ہے۔ اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی بیان بازی کی وجہ سے معاملہ مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ معاملے میں آج بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے کرناٹک حجاب تنازع کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ حجاب کے بڑھتے تنازع کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے تین دن کے لیے اسکول اور کالج بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔
پچھلے کچھ دنوں سے کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہن کر کلاس روم میں داخل ہونے کا معاملہ زور پکڑ رہا ہے۔ اس معاملے میں پہلے اے بی وی پی سے جڑے کارکنوں نے احتجاج کیا، پھر اب سیاسی جماعتوں سے جڑے لیڈروں کے تبصرے بھی آنے لگے ہیں۔ بدھ کو بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو نے کہا کہ ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس سے پہلے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کا بیان بھی سامنے آیا تھا، انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔
اس سے پہلے گزشتہ دن کرناٹک کے اُڈپی ضلع کے منی پال واقع مہاتما گاندھی میموریل کالج میں اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب زعفرانی شالوں اور حجاب میں ملبوس لڑکیوں کے دو گروپوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں لڑکوں کا ایک گروپ منڈیا میں حجاب پہننے والی لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے نظر آئے۔










