لکھنؤ :(ایجنسی)
آگ راکھ میں دب گئی ہے۔ دب کیاگئی،دبا دی گئی ہے۔ اب دیکھنا ہے کب عزائم کی چنگاری پھر سے شعلہ بنتی ہے۔ خبر تو یہی ہے کہ سلگنے کےلیے ابھی بھی بس آکسیجن کے درشن ہونے کاانتظار ہے۔ جی ہاں آپ نے ٹھیک سمجھا ہوگا۔ بات اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرسادموریہ کی ہو رہی ہے۔ ان کےعزائم نے پھر قلانچیں بھرنا شروع کیا تومرکزی وزیر امت شاہ کو پیغام دینا پڑا۔ تب تک کیشو پرساد موریہ ایودھیا کے بعدکاشی اورپھر متھرا کو ہوا دے چکے تھے۔
ان کی ہوا میں جہاں اچانک تمام کارکنان سانس لینے لگے وہیں کچھ لیڈروں کی دھڑکنیں تیزہوگئیں۔ مزاج بدلتے دیکھ کر وزیر اعظم نریندر مودی کو خود آگے آنا پڑا۔ اسی ہفتہ کیشو بابو پارلیمنٹ میں وزیر اعظم دفتر میں طلب ہوئے۔ ملنا توکیشو بابو بھی چاہتے تھے۔ خیر وزیر اعظم نے اپنے معروف انداز میں انہیں سمجھا دیاہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ اترپردیش میں پٹری کی طرف آرہی گاڑی ایک بار پھر رفتار بدلے۔ لہٰذا خبر ہے کہ کیشو بابو بھی سمجھ گئے ہیں۔ انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ ابھی ان کےلئے صحیح وقت نہیں آیا ہے۔ اب صحیح وقت کب آئے گا اور کب وہ اپنے کیشو مادھو راگ کوچھوڑیں گے، یہ انہیں بھی معلوم ۔ فی الحال تنظیم کو مضبوطی دے رہے ہیں ۔









