گڑگاؤں :(ایجنسی)
ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے گڑگاؤں میں عوامی مقامات پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے ہندو تنظیموں کے مسلسل احتجاج کے درمیان اس معاملے پر ایک بار پھر بیان دیا ہے۔ اسمبلی میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کھٹر نے کہا کہ کسی بھی برادری کو کھلے میں عبادت نہیں کرنا چاہئے ۔
کھٹر نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ اپنے مذہبی مقامات پر عبادت کرتے ہیں اور انہیں اپنے تہوار کھلے میں منانے کی بھی اجازت ہے، لیکن طاقت کا مظاہرہ کرنا غلط ہے جس سے دوسری کمیونٹیز کے جذبات بھڑک اٹھیں۔
کھٹر نے یہ بیان نوح کے ایم ایل اے آفتاب عالم کے گڑگاؤں میں کھلے میں نماز کی مخالفت کرنے والی ہندو تنظیموں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں دیا۔ کچھ دن پہلے کھٹر نے اس بارے میں ایسا بیان دیا تھا، جس پر کافی چرچا ہوا تھا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ یہاں کھلے میں نماز پڑھنے کی روایت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ معاملہ پرامن طریقے سے بیٹھ کر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کریں۔ ہندو تنظیمیں گزشتہ کئی ہفتوں سے گڑگاؤں میں عوامی مقامات پر نماز جمعہ کی ادائیگی کی مخالفت کر رہی ہیں۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی گرم ہے۔
معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا
گڑگاؤں میں کھلی جگہ میں نماز کا یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچ گیا ہے۔ راجیہ سبھا کے سابق رکن محمد ادیب نے عرضی داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہریانہ حکومت کے اہلکار فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے میں ناکام رہی ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے ہریانہ کے چیف سکریٹری سنجیو کوشل اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل پی کے اگروال کے خلاف کارروائی کی مانگ کی ہے۔ پچھلے مہینوں میں کئی بار ایسا ہوا ہے جب ہندو تنظیموں کے لوگ نماز والی جگہوں پر پہنچے اور جے شری رام اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے لگائے۔ مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے نعرے بازی کے درمیان نماز ادا کی۔ اس دوران پولیس ہندو تنظیموں اور مسلم کمیونٹی کے لوگوں کے درمیان بھی کھڑی رہی۔
منتخب جگہوں پر بھی اعتراضات
ہندو تنظیموں کے رہنماؤں کو ان 37 جگہوں کو لے کر بھی اعتراض ہے ، جن کا انتخاب مسلم کمیونٹی ،ہندو سماج اور انتظامیہ کے افسران کے درمیان طویل بات چیت کے بعد نماز پڑھنے کے لیے کیاگیا تھا۔ اس کے بعد سے مسلم برادری کے لوگ ان جگہوں پر نماز ادا کرتے آرہے تھے۔









