لکھنؤ :(ایجنسی)
ایسا لگتا ہے کہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی مشکلات بڑھنے والی ہیں۔زرعی قوانین کےخلاف ایک سال تک چلی تحریک کی قیادت کرنے والےسنیکت کشان مورچہ نے اعلان کیا ہےکہ وہ 3 فروری سے بی جے پی کےخلاف مشن اترپردیش چلائے گا۔
سنیکت کسان مورچہ مشن اتر پردیش کے تحت مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کی گرفتاری اور مرکزی کابینہ سے ان کی برطرفی کی مانگ کواٹھائے گا۔ کسان رہنما راکیش ٹکیت نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ مرکزی حکومت نے کسانوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے کچھ اہم نکات کو پورا نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ٹینی کی برطرفی ان اہم نکات میں سے ایک ہے۔مشن اترپردیش کے پہلے مرحلے میں کسان مورچہ 3 فروری کو ایک پریس کانفرنس کرے گا، اس کے بعد کسان سنگٹھن مورچہ کے بینر تلے نکڑ میٹنگیں اور حکومت کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائے گی۔اس سے قبل 31 جنوری کو کسان مورچہ کے رہنما تمام تحصیلوں اور ضلع ہیڈکوارٹرز میں حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے اور اپنے مطالبات کے لیے اپیل کریں گے۔
سنیکتکسان مورچہ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے ایم ایس پی کے معاملے پر کوئی کمیٹی نہیں بنائی ہے اور کسانوں کے خلاف درج مقدمات کو ابھی تک واپس نہیں لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اجے مشرا ٹینی کو بھی برطرف یا گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔کسانوں نے پہلے بھی مشن اتر پردیش-اتراکھنڈ چلانے کا اعلان کیا تھا، لیکن مرکزی حکومت نے زرعی قوانین کو واپس لے لیا تھا۔ اب جب کسان ایک بار پھر بی جے پی اور مرکزی حکومت کو وارننگ دے رہے ہیں تو یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت جلد از جلد ان کے مطالبات مانتی ہے یا نہیں۔ یہ یقینی ہے کہ اگر کسان بی جے پی کے خلاف میدان میں اترتے ہیں تو پارٹی کو یقینی طور پر اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔











