نئی دہلی : (ایجنسی)
ملک بھر کے200 سے زیادہ نامور لوگوں نے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) این وی رمن کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان سے ملک کے کچھ اہم مسائل پر سماعت کرنے کے لیے کہا ہے۔ ان لوگوں میں ریٹائرڈ افسران، پروفیسر،صحافی، سماجی کارکن، وکلاء شامل ہیں۔
خط میں سی جے آئی کا توجہ ان اہم مسائل کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ معاملات زیر التوا ہیں۔ ان میں بغاوت کا قانون، زرعی قوانین، انتخابی بانڈز اور سی اے اے جیسے مسائل شامل ہیں۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کے سامنے 421 مقدمات زیر التوا ہیں۔
سی جے آئی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ان معاملات کی جلد از جلد سماعت کریں۔ خط میں شامل مسائل میں جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کی منسوخی، یو اے پی اے کا مسلسل غلط استعمال، پیگاسس جاسوسی کیس، آدھار سے متعلق مسائل اور رافیل لڑاکا طیارہ سودے شامل ہیں۔
زرعی قوانین کی بات کریں تو اس معاملے میں ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ مارچ 2021 میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی جاچکی ہے لیکن مزید سماعت نہیں ہوئی۔ تاہم، کسانوں کو سڑکوں سے ہٹانے کی درخواست کی سپریم کورٹ نے کئی بار سماعت کی ہے اور اس پر سخت ریمارکس بھی دیے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ یہ مسائل نہ صرف عام لوگوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرتے ہیں بلکہ قومی اہمیت کے بھی حامل ہیں۔ خط لکھنے والوں نے کہا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ میں نو ججوں کی تقرری کے بعد اس عدالت عظمیٰ کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور عام لوگوں کو امید ہے کہ طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کا جلد فیصلہ ہو جائے گا۔ کہا گیا ہے کہ ان معاملات کے حل کے بعد سپریم کورٹ اور عدالتی نظام پر لوگوں کا اعتماد بحال ہو گا۔
خط لکھنے والے ممتاز لوگوں میں ریٹائرڈ ایڈمرل لکشمی نارائن رامداس، سماجی کارکن میدھا پاٹکر، ریٹائرڈ آئی پی ایس جولیو ریبیرو، راج موہن گاندھی، شروتی لوکرے، صدر آل انڈیا مجلس مشاورت نوید حامد ،اسمرتی شرما، نیلبھ دوبے، رادھا گوپالن، عمر احمد سمیت کئی دوسرے شامل ہیں۔









