گورکھپور : (ایجنسی)
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ دورے کے دوسرے دن جمعہ کو وزیراعلیٰ نے یوگی راج بابا گمبھیر ناتھ آڈیٹوریم میں منعقد پروگرام سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ لکھیم پور حادثہ افسوسناک ہے، لیکن جس طرح اپوزیشن جماعتوں کے لیڈر وہاں جانے کے لیے مقابلہ آرائی کر رہے ہیں ، اس سے واضح ہے کہ یہ صرف سیاسی روٹیاں سینکنے کے لیے دکھاوا ہے۔ کورونا دور میں بھی لیڈروں کو ایک بار عوام کی خدمت کے لیے جانا چاہئے تھا ۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی کے لیڈروں کو لگا کہلکھیم پور ایک بہانہ ہے ، لیکن ایسا نہیں ہوپائے گا۔ یہ کوئی خیر سگالی کا پیامبر نہیں ہے۔ حکومت کی پہلی ترجیح امن وامان اور ہم آہنگی بنانا ہے ، حکومت نے وہی کیا ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ لکھیم پور پر سیاست کرنے والوں کو طالبان کا آئینہ دکھانا چاہیے۔ ملک کے اندر لکھیم پور معاملے پر کون سیاست کر رہا ہے؟ وہی جو کابل میں طالبان کی حمایت کر رہے ہیں۔
یوگی نے کہا کہ کانگریس کے زیر اقتدار چھتیس گڑھ کے کارواڈھا میں جو ہوا ، کیا وہاں کوئی گیا ان میں سے ؟جن لوگوں کو پولیس نے گولیوں سے بھونا ،کیا کوئی ان سے ملنے گیا؟ اکھلیش یادو کو پڑھنے لکھنے کی فرصت کہاں ہے، وہ تو بڑے باپ کےبڑے بیٹے ہیں ۔ فطری طور سے ان کی زندگی ہے اور ان کے کام کرنے کا اپنا طریقہ ہے۔ ملک اور دنیا سے انہیں کیا مطلب ؟
انہوں نے کہا کہ اویسی اگر کشمیر میں نشانہ بن رہے ہندوؤں اور سکھوں کے تئیں ہمدردی کا اظہار کردیتے تو لوگ انہیں لیڈر سمجھتے۔ جو لوگ لکھیم پور میں ہندوؤں اور سکھوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں ، ان کو کشمیر کا آئینہ دکھانا چاہیے۔ لکھیم پور پر سیاست کرنے والوں کو طالبان کا آئینہ دکھانا چاہیے۔ ملک کے اندر لکھیم پور معاملے پر کون سیاست کر رہا ہے؟ وہی جو کابل میں طالبان کی حمایت کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر کوئی غلط فہمی میں ہے کہ وہ اتر پردیش کے اندر گھیرا بندی کرکے عام زندگی کو ٹھپ کردیں گے ، یا بے گناہ لوگوں پر حملہ کریں گے ، تو وہ لوگ بھی تیار ہو جائیں۔ ہم تو تیار ہی ہیں۔ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس تما م برہمن سمیلن کررہے ہیں ، لیکن لکھیم پور میں دو برہمن بھی مارے گئے، کیا ان میں سے کوئی لیڈر گیا ان متاثر ہ برہمنوں کے گھر؟ قنوج کے نیرج مشرا کا قتل ، کیا سنتوش شکلا برہمن نہیں تھے؟ کبھی ان کے گھر گئے؟ میں نوئیڈا بھی گیا اور بجنور بھی۔ دونوں کےبارے میں کہا جاتا تھا ، جو سی ایم وہاں جاتا ہے وہ دوبارہ اقتدار میں لوٹ کر نہیں آتا۔ ہم لوگ اسی سوچ کو توڑنے کے لیے سیاست میں آئے ہیں۔ ہماری سرکار اترپردیش میں دوبارہ آئے گی ۔










