متھرا : (ایجنسی)
اترپردیش کے متھرا میں ایک ایسے علاقےسے گوشت لے جانے کے لئے بھیڑ کےذریعہ دو لوگوں کو روکا گیا اور بے رحمی سے پیٹا گیا، جہاں گوشت کی مصنوعات پر پابندی ہے ۔ واقعہ کی کچھ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہیں ، جو اب سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہیں ۔
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق دونوں نوجوانوں کی شناخت ایوب اور محسن کی شکل میں ہوئی ہے ۔ نوجوانوں پر حملہ کرنے والے رائٹ ونگ تنظیمیں فیس بک پر لائیو ہوگئے اور انہوںنے حملے کی ریکارڈنگ کی اور ناظرین سے ویڈیو شیئر کرنے کے لیے کہا۔ تقریباً 15 لوگوں کی بھیڑ نے دونوں نوجوانوں کو بہت بری طرح سے پیٹا۔
رپورٹ کے مطابق 40 سالہ ایوب رایا شہر میں ایک لائسنس یافتہ گوشت کی دکان چلاتا ہے اور وہاں سے گوشت لے رہا تھا ،جبکہ 23 سالہ محسن اس کے ساتھ تھا۔ گاڑی کے ڈرائیور ایوب ، محسن اور بہادر کو عبادت گاہ کو ناپاک کرنے اور مبینہ گئو کشی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔
متھرا کے ضلع صدر سیتارام شرما نے کہا کہ بدھ کو انہیں اطلاع ملی تھی کہ گوشت پر پابندی کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور پابندی کے باوجود مذکورہ شخص مبینہ طور پر گائے کا گوشت لے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مخبر نے ہمیں بتایا تھاکہ گوشت آگرہ سے متھرا لے جایا جا رہا تھا جو کہ غیر قانونی ہے۔
گئو رکشک دل کے صدر روی کانت شرما نے کہاکہ جمنا ایکسپریس وے سےباہر نکلنے کے بعدہم نے انہیں مہاویر کالونی میں روکا اور پولیس کو سونپ دیا۔ ایوب اور محسن کوآئی پی سی کی دفعہ 295 ( کسی عبادت گاہ کونقصان پہنچانا یا ناپاک کرنا) اور 429 (جانوروں کو مارنا یا معذور کرنا) اور گئو کشی روک تھام ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ۔
متھرا کے ایس پی (سٹی) ایم پی سنگھ نے بتایا کہ تقریباً160کلو گوشت ضبط کیا گیا ہے اور اس کے نمونے جانچ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ ملزمان کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ ایس پی نے مزید کہا کہ ملزم کے پاس نہ تو ٹرانزٹ پرمٹ تھا اور نہ ہی خراب ہونے والی چیزوں کےگاڑی کے لیے ریفریجریٹر جو دونوں لازمی ہیں۔









