نئی دہلی:(عامر حسین میواتی)
جمعیۃ علماء ہند صوبہ راجستھان کے ریاستی نو منتخب عہدے داران کا ایک مؤقر وفد، جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر سید مولانا ارشد مدنی سے جمعیۃ علماء ہند کے ہیڈکوارٹر مسجد عبدالنبی واقع آئی ٹی او دہلی میں ملاقات کی، جمعیۃ علماء راجستھان کے اس مؤقر وفد میں بطور خاص جمعیۃ علماء راجستھان کے نو منتخب صدر مولانا محمود الحسن کھیروا، مفتی خلیل احمد کرولی، ڈاکٹر ذاکر قاسمی مدرسہ حفظ القرآن لکھوالی ہیڈ ،راجستھان کے سابق مدرس و جمعیۃ علماء گڑگاؤں میوات کے سابق ناظم اعلی، وصوبائی جمعیۃ ہریانہ کے اہم رکن مولانا صابر قاسمی شامل رہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ صوبہ راجستھان کے انتخاب کے بعد جمعیۃ کے عہدیداران کی مولانا مدنی سے یہ پہلی ملاقات تھی، جس میں صوبے راجستھان کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم سے کس طرح راجستھان میں کام کرنا ہے، یہ ملاقات اس پس منظر میں زیادہ دیکھی گئی ۔ مولانا محمود الحسن کھیروا کی مولانا مدنی سے ملاقات میں گفتگو کا محور یہی رہا۔
ضلع کرولی جمعیۃ علماء کے صدر و مفتی اعظم راجستھان مفتی خلیل احمد نے راجستھان واپسی پر نمائندہ کو بتایا کہ صدر محترم سے ایک اہم اور معنی خیز ملاقات رہی، جس میں صوبائی سطح پر کام کرنے کے علاوہ، حالیہ پُر امن باہمی مشورہ سے صوبائی صدر کے انتخاب کی کارگزاری اور مستقبل میں جمعیۃ علماء ہند کے کام کرنے کے لیے لائحہ عمل سمیت ہدایات طلب کی گئی۔
اس موقع پر نو منتخب صوبائی صدر مولانا محمود الحسن کھیروا نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ کا ذمہ داری کا بارِ گراں اور بر وقت ذمہ داری کو تساہلی سے بچتے ہوئے منصفانہ طور پر ادا کرنا کسی بھی انسان کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہے، تاہم اللہ پر توکل کرتے ہوئے اور اکابر جمعیۃ علماء ہند کی حیات مستعار کو سامنے رکھتے ہوئے اور احباب کو ساتھ لے کر ان شاء اللہ کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء راجستھان انہی خطوط پر جمعیۃ کے کاز کو آگے لے کر چلے گی ،جس پر جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی ملت کو لیکر چل رہے ہیں اور قوم کی بر وقت بےباکی سے درست سمت میں رہنمائی کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں گڑگاؤں معاملے میں سرگرم مولانا صابر قاسمی نے مولانا ارشد مدنی کے سامنے گڑگاؤں میں عوامی مقامات پر نماز جمعہ معاملہ کے مسائل اور وقف املاک اور وقف بورڈ کے زیر انتظام کئی درجن غیر آباد مقام پر مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کی زمینی نوعیت سے واقف کرایا ۔











