لکھنؤ:(ایجنسی)
بحران میں گھرے مافیا ڈان سے سیاسی لیڈر بنے مختار انصاری کے لیے آخر کار ایک اچھی خبر ہے ۔ انصاری کو 14 سال پرانے گینگسٹر ایکٹ کیس میں ضمانت مل گئی ہے۔ غازی پور کی سیشن کورٹ نے منگل کو انصاری کو ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے پر ضمانت دے دی۔ وہ اس وقت اتر پردیش کی باندہ جیل میں بند ہیں۔
چونکہ انصاری کے خلاف مئو اور اترپردیش کے دیگر حصوں میں کئی دیگر مقدمات درج ہیں، اس لیے ان کے مستقبل قریب میں جیل سے رہا ہونے کا امکان نہیں ہے۔
مئو اسمبلی سیٹ کے موجودہ ایم ایل اے مختار انصاری بی جے پی ایم ایل اے کرشنا نند رائے کے قتل کے الزام میں 2005 سے جیل میں بند ہیں۔ غازی پور ضلع کے ایک تھانے میں ان کے خلاف 40 سے زیادہ مقدمات درج ہیں۔
پانچ بار کے ایم ایل اے کو کئی معاملات میں بری کیا چکاہے۔
اس سے قبل مختار انصاری کو پنجاب کی روپڑ جیل سے اتر پردیش کی باندہ جیل منتقل کیے جانے کے بعد ان کے بیٹے عمر انصاری نے الزام لگایا تھا کہ باندہ جیل میں ان کے والد کی جان کو خطرہ ہے۔ گزشتہ ماہ باندہ جیل میں مختارانصاری سے ملاقات کے بعد عمر نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے والد کو قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ عمر کے دعوے کے مطابق جیل میں بند مجرموں کے ساتھ ضلع انتظامیہ اور مقامی پولیس کی ملی بھگت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے والد کو قتل کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ میں عدالت سے رجوع کروں گا۔
انصاری نے گزشتہ سال ستمبر میں عدالت کو بتایا تھا کہ اتر پردیش حکومت انہیں کھانے میں زہر ملا کر مار سکتی ہے۔ جیل میں اعلیٰ درجے کی سہولیات کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
مختار انصاری پانچ بار مئوحلقہ سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے ہیں، دو بار بی ایس پی کے ٹکٹ پر (1996 اور 2017)، دو بار آزاد (2002، 2007) اور ایک بار اپنی ہی تنظیم قومی ایکتا دل (2012) کےساتھ ممبراسمبلی منتخب ہوچکے ہیں۔










