نینی تال:(ایجنسی)
نینی تال میں کانگریس کے سینئر لیڈر سلمان خورشید کے گھر میں پیر کو کچھ لوگوں نے توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔ یہ واقعہ ایودھیا پر ان کی نئی کتاب کی ریلیز پر تنازع کے بعد ہوا ہے۔ کانگریس لیڈر خورشید نے اس واقعے کی تصاویر فیس بک پر شیئر کی ہیں۔ اس میں لمبے لمبے شعلے، جلے ہوئے دروازے اور ٹوٹے ہوئے شیشے نظر آرہےہیں۔ دو نوجوان اس میں پانی ڈال کر آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں ڈی آئی جی (کماؤ) نیلیش آنند نے بتایا کہ’راکیش کپل اور 20 دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘
درحقیقت سلمان خورشید کی لکھی ہوئی کتاب’ سن رائز اوور ایودھیا‘کے چھٹے باب ’دی سیفرن اسکائی ‘میں لکھا گیا ہے کہ سادھو سنتوں کے سناتن دھرم اور قدیم ہندومت کو ہندوتوا کے ایک نئے طریقے سے کنارے لگایا جا رہا ہے جو کہ اسلامی جہادی تنظیم بوکوحرام اورآئی ایس آئی ایس کی طرح ہے ۔ کتاب میں لکھی گئی اس لائن کو لے کر ان کے خلاف دہلی پولیس کے پاس شکایت بھی درج کرائی گئی ہے ۔
سلمان خورشید کی یہ کتاب حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس واقعے پر غصے کا اظہار کیا ہے۔وملا کھوٹیا نے لکھا : ’ جن لوگوں نے ایسا کیا ہے، ان لوگوں نے سلمان خورشید کی کتاب میں لکھی باتوںکو ثابت کردیا ہے ۔
شیوم ورما نے کہا کہ ’انتخابی ماحول میں ملک میں مذہبی فسادات میں سنگ باری، آتش زنی جیسےواقعات ہو جائے۔ یہ جانے کس کی چاہت تھی۔ ملک تو آگ سے نہیں جلا، لیکن گھر جل گیا۔ خودجلا دیا ۔ یا جلوایا دیا گیا۔ یہ تو صرف آگ لگانے اور لگوانے والا جانتا ہے۔









