دہرا دون :(ایجنسی)
اتراکھنڈ پولیس نے خود کو سپریم کورٹ میں کرکری سے بچانے کےلیے مبینہ سنت یتی نرسنگھانند کو گرفتارتوکیا لیکن ایک دوسرے معاملے میں۔ پولیس اسے خواتین پر قابل اعتراض بات کرنے پر گرفتار کیا ہے۔ جبکہ نرسنگھانند کے خلاف ہری دوار دھرم سنسد میں مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی دینے کا معاملہ سب سے بڑا ہے۔ تاہم اگر پولیس چاہے تو اسے اس معاملے میں گرفتار بھی دکھا سکتی ہے یا عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتا سکتی ہے کہ اس کے خلاف اس سے بھی سنگین مقدمہ درج ہے۔ ایک دن بعد اتراکھنڈ پولیس کے ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ نرسنگھانند کو دھرم سنسد یا مذہبی اجتماع میں مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
تاہم ذرائع نے بتایا کہ انہیں دھرم سنسد کیس میں بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس کیس میں اسے بھی ریمانڈ پر لیا جائے گا۔ عمل جاری ہے۔ ہم ریمانڈ کی درخواست میں دھرم سنسد کیس کی تفصیلات بھی شامل کریں گے۔ ذرائع کے مطابق نرسنگھانند کے خلاف موجودہ مقدمہ اس ماہ کے شروع میں دیگر مذاہب کی خواتین کے خلاف قابل اعتراض اور تضحیک آمیز تبصروں کے لیے درج شکایت پر مبنی ہے۔
ایف آئی آر میں خواتین کی توہین کے الزامات کے علاوہ نفرت انگیز تقاریر کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ یہ معاملہ ہری دوار دھرم سنسد سے متعلق نہیں ہے۔











