نئی دہلی:(ایجنسی)
NEETمیڈیکل داخلہ امتحان سے متعلق ایک گھوٹالہ سامنے آیا ہے ، جس میں امتحان پاس کرنے کے لیے پراکسی کا استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور فی امیدوار 50 لاکھ روپے ادا کیے گئے تھے۔ امتحانات میں فیل ہونے والے طلباء کی خودکشی کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں اور اس پر ہنگامہ برپا ہے۔ دریں اثنا سی بی آئی ذرائع نے بدھ کو امتحان میں گھوٹالے کے بارے میں معلومات دی۔ سی بی آئی ذرائع نے بتایا کہ مہاراشٹر میں واقع ایک کوچنگ سینٹر آرکے ایجوکیشن کریئرگائنڈنس ، اس کے ڈائریکٹر پریمل کوٹ پلیور اور کئی طلباء پر الزام لگایا گیا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے ذریعہ حاصل کی گئی سی بی آئی کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ جانکاری سے معلوم ہوتا ہے کہ پریمل کوٹ پلیور نے خواہشمند امیدواروں کو دھوکہ دہی اورغیر منصفانہ طریقہ اپنا کر اعلیٰ سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلہ کی پیشکش کی تھی۔ ممکنہ امیدواروں کے والدین سے رابطہ کیا گیا تھا اور انہیں یقین دلایا گیا تھا ۔ پراکسی امیدواروں کا استعمال کرکے NEETکے ذریعہ منعقد کئےجارہے امتحان کےعمل میں ہیرا پھیری کرکے میڈیکل کالجوں میں داخلہ دلایا گیا ۔
جانچ میں انکشاف ہوا کہ دسویں اور بارہویں جماعت کے خواہشمند امیدواروں کے والدین سے 50 لاکھ روپے تک کی رقم کے پوسٹ ڈیٹڈ چیک اور اصل مارک شیٹ بطور سکیورٹی جمع کرنے کے لیے کہا گیا تھا ۔ کوچنگ سینٹر کےذریعہ کہا گیا تھا کہ طے رقم کی وصولی کے بعد چیک اور مارک شیٹ واپس کردی جائیں گی ۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’’ معلومات سےپتہ چلا ہے کہ پریمل اور اس کے ساتھیوں کےذریعہ امتحان میں بیٹھنے والے امیدواروں کےیوزر آئی ڈی اور پاس ورڈ جمع کئےگئے ہیں اور ان کے ذریعہ منصوبہ کے مطابق مطلوبہ ایگزام مرکز حاصل کرنے کے لیے ان میں ضروری ترمیم کی گئی ۔ وہ تصاویر کو ملانے؍ بدلنے کے عمل کا بھی استعمال کرتے ہیں ۔ وہ اس امتحان میں حاضر ہونے کے لیے پراکسی امیدواروں کی سہولت کے لیے فرضی آئی ڈی کارڈ بنانے کے مقصد سے امیدواروں کے ای آدھار کارڈ کی کاپیاںجمع کررہے تھے ۔ پریمل نے امیدواروں کو جواب کی کاپیاں دینے اور او ایم آر شٹ میں ہیرا پھیری کرنے کی بھی یقین دلائی تھی ۔
وزیر اعلیٰ اسٹالن نے اپنی اپیل میں کہا کہ میں آپ سے التجا کرتا ہوں ، براہ کرم اپنی زندگی کو ختم نہ کریں۔ آپ کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیںہے ، اس اعتماد کے ساتھ پڑھائی کریں ۔ والدین کو بھی بچوں میں اعتماد پیدا کرنا چاہئے اوران پر دباؤں نہیں ڈالنا چاہئے۔ انہوں نے گھبرائے ہوئے بچوں کو 104 ڈائل کرکے ذہنی صحت کے ماہرین سے بات کرنے کی صلاح دی ۔









