بھوپال : (ایجنسی)
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان نے ہفتے کے روز کہا کہ گائے کے پیشاب اور گائے کے گوبر کا استعمال ریاست اور ملک کی ’معیشت کو مضبوط بنانے’ میں مدد کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے لیے مناسب انتظام کیا جائے۔
شیوراج نے دعویٰ کیا کہ اگر گائے پالنے کے شعبہ میں کام کرنے والی خواتین آگے آتی ہیں تو اس کام میں ’ہماری کامیابی یقینی ہے۔‘
شیوراج بھوپال میں ویٹرنری ایسوسی ایشن آف انڈیا کے مہیلا سیل کے پہلے سالانہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ ’شکتی 2021’‘ کے عنوان سے منعقد پروگرام میں ملک بھر میں مہیلا ویٹرنرینز کو درپیش مسائل، چیلنجز اور ان کے حل کے بارے میں بات کی جا رہی تھی۔
گائے کے گوبر اور گائے کے پیشاب سے ہم اپنی اقتصادی معیشت کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ ہماری ریاستی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ اب شمشان گھاٹوں میں لکڑی کے استعمال کے بجائے گائے کےگوبر کے اپلوں کا استعمال کیا جائے۔
گائے کے گوبر اور گائے کے پیشاب کے مختلف فوائد اور افادیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے شیوراج نے کہا کہ ‘گوبر اور پیشاب کو کیڑے مار دوا، اینتھلمینٹک، کھاد اور بہت سی دوسری چیزیں بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت کوشش کر رہی ہے کہ شمشان گھاٹ میں لکڑی کے بجائے گائے کے گوبر کے اپلوں کا استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ ‘ہم کوشش کر رہے ہیں کہ شمشان گھاٹ میں اب لکڑی کا استعمال نہ کیا جائے۔ اس کے بجائے، گائے کے گوبر کا اپلے آخری رسومات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گئوشالائیں اب خود کفیل ہو رہی ہیں۔ ہم گوبر کی خرید کررہے ہیں اور اس سمت میں کام کررہے ہیں کہ کیسے ہم اس کا استعمال کھا بنانے کے لیے کرسکتےہیں ۔
شیوراج نے مویشیوں میں ہونے والی بیماریوں کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مویشیوں کے جلد علاج کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی ایمبولینس سروس شروع کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے مویشی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اس لیے جس طرح ہمارے پاس انسانوں کے لیے 108 (ایمبولینس ہیلپ لائن) سروس ہے، اسی طرح ہم خاص طور پر مویشیوں کے لیے 109 سروس شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں تاکہ انہیں مویشی ڈسپینسری تک لے جایا سکتے اور ان کا وقت پر علاج کیاجاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ تمام کوششیں مویشیوں کے علاج میں آسانی کو یقینی بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ ہم ان طریقوں پر بھی کام کر رہے ہیں جس سے ہمیں دودھ کی مقدار میں اضافہ کر سکتے اوراپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے ان مویشیوں کا استعمال کررہے ہیں۔









