نئی دہلی:(ایجنسی)
مرکزی حکومت نے بدھ کو پارلیمنٹ میں کہا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(این سی آر بی) بھیڑکے ہاتھوں مارے گئے لوگوں کے بارے میں الگ سے کوئی ڈیٹا نہیں رکھتا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے راجیہ سبھا کو ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری دی۔
ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی جواہر سرکار نے پوچھا تھا کہ ملک میں خود ساختہ گروپوں اوربھیڑ کے ذریعہ پچھلے پانچ سالوں میں کتنے مسلمانوں اور دلتوں کا سرعام حملہ کیا گیا اور انہیں ہلاک یا شدیدطور پرزخمی کیا گیا۔
اس کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا، این سی آر بی اس سلسلے میں الگ سےکوئی ڈیٹا نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین کےساتویں شیڈول کےمطابق پولیس اور پبلک آرڈر ریاست کے موضوع ہیں اور ریاستی حکومتیں اپنے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے جرائم کی روک تھام اور مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ذمہ دار ہیں۔رائے نے کہا کہ تاہم وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کےزیر انتظام خطے کو وقتاً فوقتاً امن و امان برقرار رکھنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے ہر شخص کو فوراً سزا دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستوں اورمرکز کے زیر انتظام خطہ کواس سلسلے میں ایک ایڈوائزری 04/07/2018 کو جاری کی گئی تھی کہ وہ ان فرضی خبروں اور افواہوں پر نظر رکھیں، جن سے تشدد کا امکان ہے۔ ان سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ماب لنچنگ کے خطرےکو ختم کرنے کے لیے میڈیا کے ذریعے لوگوں میں بیداری بھی پیدا کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھیڑ کے ذریعے تشدد کوبڑھاوا دینے والی جھوٹی خبروں اور افواہوں کو روکنے کے لیےقدم اٹھانے کے لیے سروس فراہم کرنے والوں کو بھی حساس بنایا ہے ۔
نتیا نند رائے نے کہا کہ مرکز نےملک میں ماب لنچنگ کے واقعات کو روکنے کے لیے23 جولائی2019 اور 25 ستمبر 2019 کو ریاستی حکومتوں اور یونین ٹریٹری کو ایڈوائزری جاری کی ہے۔رائے نے کہا کہ پولیس اورپبلک آرڈر ریاست کے موضوع ہیں اور اس طرح کے جرائم کی روک تھام، ان کاپتہ لگانے، رجسٹریشن اور جانچ کے لیے ریاستی حکومتیں ذمہ دار ہیں۔
ملک میں ہنٹر لینڈ دہشت گردی صفر ہوئی: رائے
دریں اثناء حکومت نے آج کہاکہ 2020میں ملک میں ہنٹرلینڈ دہشت گردی صفر کی سطح پر آگئی ہے جبکہ بائیں بازو کی انتہا پسندی 95کے بجائے 23اضلاع تک سمٹ گئی ہے اور گزشتہ ایک سال میں عسکریت پسندوں کے تشدد میں تقریباً 25فیصد کی کمی آئی ہے۔

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیا نند رائے نے یہاں لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہنٹرلینڈ دہشت گردی بے قصور لوگوں کو نشانہ بناتی ہے۔ مودی حکومت کے ٹھوس اقدامات کی وجہ سے یہ اب تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2013میں ہنٹر لینڈ دہشت گردی کے چار واقعات ہوئے تھے جن میں 23لوگوں کی جان گئی تھی۔2020میں اعدادوشمار صفر رہا۔
مسٹر رائے نے کہاکہ بائیں بازو کی انتہا پسندی کے واقعات میں 2019کے مقابلے 2020میں 70 فیصد اور شہریوں پر حملے میں ہونے والی اموات کے اعدادوشمار میں 80فیصد تک کمی آئی ہے۔ 2010میں بائیں بازو کی انتہا پسندی 95اضلاع سے سمٹ کر 2020میں یہ 23اضلاع میں رہ گئی ہے۔ اسی طرح سے 2021میں بائیں بازو کی انتہاپسندی میں تقریباً 25فیصد کی کمی آئی ہے۔
سائبر جرائم کے بارے میں پوچھے گئے ایک ضمنی سوال کے جواب میں وزیرمملکت برائے داخلہ نے کہاکہ دہشت گردی اور منظم مجرم بھی سائبر ذرائع سے اپنی سرگرمیوں کو انجام دے رہے ہیں۔ اسے مدنظر حکومت نے سال 2008کے قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے اس میں ایجنسی کو سرحد پار بھی جانچ کرنے اور گرفتاری کا حق دیا گیا ہے۔









