نئی دہلی:(ایجنسی)
این ڈی ٹی وی صحافت سے گزشتہ دین دہائیوں سے منسلک کمال خان کا جمعہ 14 جنوری کو اچانک انتقال ہوجانے سے پورا این ڈی وی پریوار اورصحافت کی دنیا غمزدہ ہے۔ وہ گزشتہ 30 سالوں سے NDTV سے منسلک تھے اور اپنی مخصوص صحافت کے لیے جانے جاتے تھے۔ وہ چینل کے لکھنؤ بیورو کے سربراہ تھے۔ ابھی جمعرات کو ہی چینل پر اتر پردیش اسمبلی انتخابات پر ان کی رپورٹنگ دیکھی گئی۔ جمعہ کی صبح دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔
تین دہائیوں میں انہوں نے سیاست کے کئی مراحل دیکھے اور سامعین کو اپنی سیاسی آنکھوں سے واقعات کا گواہ بنایا۔ انہیں معاشرے کو سمجھنے کے اپنے منفرد انداز اور ممتاز اور معتبر آوازوں میں سے ایک صحافی سمجھا جاتا ہے۔
61 سالہ کمال خان کے پسماندگان میں اہلیہ روچی اور بیٹا امان ہیں۔
ان کی موت پر کئی سیاست دانوں نے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ان کی موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ معروف صحافی کمال خان جی کا اچانک انتقال صحافت کی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ایشورسے دعا ہے کہ وہ ان کے اہل خانہ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی طاقت دے۔
کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی بتایا کہ وہ کچھ دن پہلے ان سے ملی تھیں۔
‘روز نامہ خبریں ‘ بھی اس نقصان پر غمزدہ ہے اور کمال خان کے اہل خانہ اور ان کے چاہنے والوں کے لیے ان کے انتقال کے نقصان سے ابھرنے کی دعا کرتا ہے۔











