مئو :(ایجنسی)
اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کو لے کر جاری سیاسی گہما گہمی کے درمیان ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ جیل میں بند باہوبلی لیڈر مختار انصاری اس مرتبہ اسمبلی الیکشن نہیں لڑیں گے ۔ کئی دہائیوں کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوگا جب مئو سے مختار انصاری اس مرتبہ خود الیکشن نہیں لڑیں گے۔ اب مختار انصاری نے مئو سیٹ کی سیاسی وراثت اپنے بیٹے عباس انصاری کو سونپ دی ہے۔ جس مئو صدر سیٹ سے والد لگاتار پانچ مرتبہ ایم ایل اے رہے، اب وہیں سے بیٹا عباس اپنی قسمت آزمائیں گے ۔
دراصل مختار انصاری کو عدالت نے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی اجازت دے دی تھی، لیکن اب خبر ہے کہ وہ خود الیکشن نہیں لڑیں گے، بلکہ اپنے بیٹے عباس انصاری کو سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے ٹکٹ پر مئو صدر سیٹ سے الیکشن لڑوائیں گے ۔ عباس انصاری نے پیر کو اوم پرکاش راج بھر کی پارٹی کے ٹکٹ پر پرچہ نامزدگی داخل کردیا ۔ بتا دیں کہ مختار انصاری مئو سیٹ سے لگاتار پانچ مرتبہ ایم ایل اے رہ چکے ہیں ۔
در اصل گزشتہ دنوں پرچہ نامزدگی کی رسمی کارروائیوں کو پورا کرنے کے لئے خصوصی عدالت ایم پی ایم ایل اے کورٹ نے حکم جاری کیا تھا اور یوپی انتخابات کے لئے پرچہ نامزدگی کی رسمی کارروائیوں کو مکمل کرنے کے لئے مختار انصاری کے وکیلوں، تجویز کنندگان، نوٹری ایڈوکیٹ اور فوٹوگرافروں کو باندہ جیل جانے کی اجازت دی تھی ۔ مختار انصاری کے وکیل داروغہ سنگھ نے عدالت میں درخواست دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ مختار انصاری مئو کی صدر اسمبلی سے ایم ایل اے ہیں اور 2022 میں اس اسمبلی سیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کرنا چاہتے ہیں ۔
اتنا ہی نہیں، مختار انصاری کو سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی نے امیدوار بھی اعلان کر دیا تھا۔ مختار انصاری کے بڑے بیٹے عباس کی عمر تقریباً 29 سال ہے اور گزشتہ چند سالوں سے وہ سیاست میں بھی سرگرم رہے ہیں ۔ عباس شوٹنگ چیمپئن بھی رہ چکے ہیں اور بین الاقوامی شوٹنگ مقابلوں میں کئی میڈل بھی جیت چکے ہیں۔ حالانکہ والد کے جیل جانے کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہوگئے ۔










