انبالہ : (ایجنسی)
لکھیم پور کھیری کا تنازع ابھی تھما بھی نہیں ہے کہ اس درمیان ہریانہ کے انبالہ سے ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے ۔ الزام ہے کہ بی جے پی لیڈروں کی مخالفت کرنے پہنچے کسان پر گاڑی چڑھادی گئی، جس میں وہ زخمی ہوگیا۔ کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ کوروکشتر سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نایب سینی کے قافلے نے انبالہ کے نارائن گڑھ میں احتجاج کررہے کسان پر گاڑی چڑھا دی ۔
کانگریس نے انبالہ کے نارائن گڑھ کے اس واقعہ پر بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔ یوتھ کانگریس کے قومی صدر سرینواس بی وی نے ویڈیو کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ، ‘’کیا بھاجپائی پاگل ہو چکے ہیں؟ کوروکشتر سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نایب سینی کے قافلے نے انبالہ کے نارائن گڑھ میں احتجاج کررہے کسان پر گاڑی چڑھائی ۔‘
آج نارائن گڑھ میں ایک اعزازی تقریب میں کھیل وزیر سندیپ سنگھ اور کوروکشتر سے رکن پارلیمنٹ نایب سینی پہنچنے والے تھے، جیسے ہی کسانوں کو اس بات کا پتہ چلا کسان وہاں اس پروگرام کی مخالفت کرنے پہنچ گئے، کسانوں نے جم کر نعرے بازی کی۔
معلومات کے مطابق صبح 11 بج کر 15 منٹ پر بھون پریت سنگھ نام کے کسان نے نارائن گڑھ کے ڈی سی پی کو شکایت دی کہ اس پر گاڑی چڑھانے کی کوشش ہوئی۔ بتایا گیا کہ وہ گاڑی رکن پارلیمنٹ نایب سینی کے قافلے کی تھی۔ قافلے کی آخری گاڑی کے ذریعہ بھون پریت کو ٹکر مارنے کا الزام ہے ۔ پولیس کے مطابق شکایت کرنے والے کو کسی قسم کی سنگین چوٹ نہیں آئی ہے ۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اتوار کو یوپی کے لکھیم پور کھیری میں احتجاج کرنے والے کسانوں کو گاڑی سے کچلنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ کچھ ویڈیوز بھی آئی ہیں جن میں کار واضح طور پر کسانوں کو ٹکر مارتے ہوئے اور وہاں سے نکلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اس معاملے میں وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کا نام سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ اس نے کسانوں پر گاڑی چڑھائی۔ ایف آئی آر میں آشیش کا نام بھی درج ہے۔وہاں چار کسانوں کی موت ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ بھی چار لوگ مارے گئے تھے ۔ جس میں دو بی جے پی کارکنان ،ایک ڈرائیو ر اور ایک صحافی شامل تھے ۔










