دہران دون : (ایجنسی)
اترا کھنڈ اسمبلی انتخاب سےپہلے کانگریس کے سینئر لیڈر ہریش راوت ناراض ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ کرکے کانگریس تنظیم پر سوال کھڑے کئے ہیں اورسیاسی میدان چھوڑ کر آرام کرنے تک کے اشارے دے دیئےہیں ۔ ایسے میں سوال اٹھتاہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ الیکشن سے عین قبل ہریش راوت کیوں ناراض ہوگئےہیں؟
اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کی انتخابی مہم کمیٹی کے صدر ہریش راوت نے ٹویٹ کیا ہے کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے کہ انتخابات کے سمندر میں تیرنا پڑے، تعاون کے لیے تنظیم کا ڈھانچہ زیادہ تر مقامات پرتعاون کا ہاتھ آگے بڑھانے کے بجائے یاتومنھ پھیر کرکےکھڑاہو جا رہاہے یا منفی کردار نبھارہا ہے ۔
انہوںنے کہا کہ جس سمندر میں تیرنا ہے۔ اقتدار نے وہاں کئی مگرمچھوں چھوڑ رکھے ہیں۔ جن کے حکم پر تیرنا ہے ان کے نمائندے میرے ہاتھ پاؤں باندھ رہے ہیں۔ذہن میں کئی بار بہت خیالات آرہے ہیں کہ اب بہت ہوگیا، بہت تیر لئے،اب آرام کا وقت ہے! پھر چپکے سےمن کے ایک کونے سے آواز اٹھ رہی ہے ’ نا دنیم نا بھاپگم‘ میں بڑی خوشی کی حالتمیں ہوں۔
ہریش راوت نے کہا کہ نیا سال راستہ دکھا سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ بھگوان کیدارناتھ جی اس مخمصے میں میری رہنمائی کریں گے۔ حالانکہ ہریش راوت نے کسی کا نام نہیں لیا ہے، لیکن ان کا اشارہ صاف ہے کہ وہ کانگریس تنظیم سے خوش نہیں ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انتخابی مہم میں انہیں جس قسم کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اس کے لیے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہریش راوت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور انہیں کام نہیں کرنے دینے والا کون ہے؟
آپ کو بتاتے چلیں کہ کانگریس ہائی کمان نے 72 سالہ ہریش راوت کو انتخابی مہم کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا ہے اور ان کے قریبی مانے جانے والے گوڈیال کو ریاستی کانگریس کمیٹی کی کمان سونپی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پریتم سنگھ، جو راوت کے سخت مخالف سمجھے جاتے تھے، کو ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹا کر قانون ساز پارٹی کا لیڈر مقرر کر دیا گیا۔ مانا جا رہا ہے کہ راوت کی خواہش پر اتراکھنڈ میں کانگریس انتخابات کے لیے ٹیم بنائی گئی تھی۔ اس کے باوجود اب ہریش راوت تنظیم پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ لائیو ٹی وی









