نئی دہلی ؍بھوپال:(ایجنسی)
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر میں اومیکرون کے کل مریضوں کی تعداد بڑھ کر 422 تھی جو اب مدھیہ پردیش اور ہماچل کے اعدادو شمار جوڑنے کے بعد 431 ہوگئی ہے ۔ مدھیہ پردیش میںکووڈ 19-کے اومیکرون ویرینٹ کے آٹھ نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ سبھی حال ہی میں بیرون ملک سے واپس آئے تھے۔ اس ٹیم میں مجموعی طور پر 26 افراد کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے تھے لیکن ان میں سے صرف آٹھ کے جینوم سیکوئنسینگ میں اومیکرون پازیٹیو پائے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہماچل پردیش میں بھی اومیکرون انفیکشن کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔ متاثرہ خاتون کینیڈا سے منڈی آئی تھی۔
مدھیہ پردیش کے ریاستی وزیر داخلہ نروتم مشرا کے مطابق گزشتہ 45 دنوں کے دوران بیرون ملک سے اندور واپس آنے والے 26 افراد کووڈ پازیٹیو پائے گئے۔ ان کے نمونے جینوم سیکوئنسینگ کے لیے دہلی بھیجے گئے تھے، جن میں سے 8 اومیکرون مثبت پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان 8 مثبت مریضوں میں سے 6 پہلے ہی منفی آ چکے ہیں اور انہیں اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی 2 (دونوں بغیر علامات والے) اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
ذرائع کے مطابق اندور میں 8 اومیکرون مثبت مریضوں میں سے 3 امریکہ سے آئے تھے جبکہ دو تنزانیہ اور یوکے سے واپس آئے تھے جبکہ ایک گھانا سے واپس آیا تھا۔
دوسری جانب ملک کی قومی راجدھانی دہلی میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی حکومت اس مرتبہ بہت پہلے ہی الرٹ ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی حکومت نے قومی دارالحکومت میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیس کو روکنے کے لئے رات کا کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیر سے دہلی میں نائٹ کرفیو ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق کل سے اگلے احکامات تک دہلی میں رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک نائٹ کرفیو رہے گا۔ تیزی سے بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کو دیکھتے ہوئے دہلی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔
در اصل کل ہی خبر سامنے آئی تھی کہ دہلی میں نائٹ کرفیو، اسکولوں اور کالجوں اور غیر ضروری سامانوں کی دکانوں کو بند کرنے اور میٹرو ٹرینوں میں بیٹھنے کی گنجائش نصف کئے جانے کی اندیشہ ہے ، کیونکہ دہلی میں کورونا وائرس کے انفیکشن کی شرح 0.43 فیصد پہنچ گئی ہے،جو کہ جی آر اے پی کے تحت یلو الرٹ شروع ہونے کے لئے 0.5 فیصد سے کچھ ہی کم ہے ۔
دہلی میں ہفتہ کو کورونا وائرس کے انفیکشن کی شرح 0.43 فیصد تک پہنچ گئی اور دارالحکومت میں 249 کیس رپورٹ ہوئے، جو 13 جون کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ انفیکشن کی شرح بھی 9 جون کے بعد سب سے زیادہ ہے، جب یہ 0.46 فیصد تھی۔ چار سطی جی آر پی اے کے کے تحت جب انفیکشن کی شرح 0.5 فیصد ہوتی ہے، تو اگلے دو دنوں کے لیے ‘یلوالرٹ شروع ہو جاتا ہے اور کئی طرح کی پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں ۔ اگر یہ انتباہ جاری کیا جاتا ہے تو دارالحکومت میں زیادہ تر سرگرمیاں اپریل کے لاک ڈاؤن سے مرحلہ وار دوبارہ شروع کے چند ماہ بعد ہی رک جائیں گی ۔
دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کووڈ کی تیسری لہر کے پیش نظر جولائی میں جی آر اے پی کو منظوری دی تھی۔ اس کا مقصد کووڈ کی صورتحال کی بنیاد پر پابندی اور ہٹانے کا واضح نظام بنانا ہے۔ ییلو الرٹ کے دوران رات 10 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کا انتظام ہے جبکہ ریڈ الرٹ کے دوران مکمل کرفیو لگایا جاتا ہے۔










