نئی دہلی: (ایجنسی)
ملک میں کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے بڑھتے معاملوں کے پیش نظر مرکزی سرکاری نے ریاستوں اور مرکز کےزیر انتظام خطوں کو خبردارکیا ہے۔ مرکز نے ضرورت پڑنے پر ریاستوںسے سخت پابندیاں لاگو کرنے کےلیے کہا ہے۔ جس میں نائٹ کرفیو، سماجی اجتماع پر پابندی اورکٹینمنٹ زون بنانا تک شامل ہیں۔
مرکز نے ریاستوں کو اومیکرون کے خطرے کے پیش نظر وار روم کو فعال کرنے اور کورونا کے معاملات پر مسلسل توجہ دینے کی بھی ہدایت دی ہے۔ یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اومیکرون ویرینٹ کے بڑھتے کیسز اور کورونا کےبڑھتے معاملوں کے شروعاتی اشارے ملنے پر ہی ضروری اقدامات کئے جائیں۔
مرکزی ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن نے اومیکرون کے کیسز کی تعداد 200 سے تجاوز کرنے کے بعد تمام ریاستوں کو یہ ہدایت دی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سات ریاستوں میں اومیکرون کی تعداد دوگنی سے تجاوز کر گئی ہے۔ زیادہ تر کیس مہاراشٹر میں پائے گئے ہیں۔ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق مہاراشٹر میں تقریباً 54 کیس درج کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی میں 54، تلنگانہ میں 20، کرناٹک میں 19، راجستھان میں 18، کیرالہ میں 15 اور گجرات میں 14 معاملے درج کیے گئے ہیں۔
مرکزی ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن نے ریاستوں کو لکھے ایک خط میں کہا ہے کہ ضلع کی سطح پر کورونا سے متاثرہ آبادی سے متعلق اعداد و شمار، اس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ، اسپتال میں سہولیات، افرادی قوت، کنٹینمنٹ زونزبنانے اوراس پر عمل درآمد کا مسلسل جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس بنیاد پر ضلع سطح پر موثر فیصلے لیے جانے چاہئیں اور ایسی حکمت عملی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کورونا کے انفیکشن کو ریاست کے دیگر حصوں میں پھیلنے سے پہلے مقامی سطح پر روکا جا سکے۔
مرکز نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کسی ضلع میں پچھلے ایک ہفتے میں 10 فیصد یا اس سے زیادہ کی پازیٹیویٹی ریٹ درج کیا گیاہو یا 40 فیصد سے زیادہ بیڈ بھر گئےہوں یا اس سے زیادہ آکسیجن اور آئی سی یو والےبیڈ پر مریض ہوں تو ضلع سطح پرپابندی عائد کی جا سکتی ہے، حالانکہ ریاست موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اوراومیکرون کےخطرے کو محسوس کرتے ہوئے ان تعداد کو درج ہونےسے پہلے ہی پابندی لاگو کر سکتا ہے۔
مرکزی ہیلتھ سکریٹری راجیش بھوشن نے ریاستوں کو لکھے ایک خط میں کہا کہ کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات میں نائٹ کرفیو، بڑے اجتماعات پر پابندی، شادیوں اور آخری رسومات جیسے پروگراموں میں لوگوں کی تعداد کم کرنا، دفاتر، صنعتوںاور پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی تعداد کم کرنا شامل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نےکہاکہ کووڈپازیٹو کیسز کے تمام نئے کلسٹرز کی صورت میں کنٹینمنٹ زونز کا فوری نوٹیفکیشن جاری کیا جانا چاہیے اور بفر زون کیا جانا چاہیے۔ مزید برآں، موجودہ رہنما خطوط کے مطابق کنٹینمنٹ زونز کی سخت حد بندی کو یقینی بنایا جائے اور تمام کلسٹر کے نمونے بغیر کسی تاخیر کے جینوم سیکوینسنگ ٹیسٹ کے لیے INSACOG لیبارٹریوں کو بھیجے جائیں۔









