کانپور:(ایجنسی)
ہندوستان میں کورونا وائرس کے اومیکرون ویرینٹ کی وجہ سے بڑھتے ہوئے انفیکشن اور اس کے ساتھ ہی بڑھتی ہوئی پابندیوں کے درمیان آئی آئی ٹی کانپور کے سینئر پروفیسر منیندر اگروال نے ایک راحت کی خبر سنائی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اومیکرون کی وجہ سے ملک میں تیسری لہر فروری میں عروج پر ہوگی لیکن اس بار نہ تو مریضوں کی تعداد زیادہ ہوگی اور نہ ہی انہیں اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اگروال نے یہ بھی بتایا کہ فروری کے بعد اومیکرون کی لہر آہستہ آہستہ کم ہونے لگے گی۔
پروفیسر منیندر اگروار نے جنوبی افریقہ اور بھارت کے درمیان ریاضی نمونوں کی بنیاد پرموازنہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آبادی اور قدرتی قوت مدافعت کے لحاظ سے دونوں ممالک کی صورتحال یکساں ہے۔وہاں 17 دسمبر کو اومیکرون پک پر تھا، اب وہاں اومیکرون کے کیسز تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
پروفیسر اگروال نے بتایاکہ’جنوبی افریقہ میں قدرتی قوت مدافعت 80 فیصد تک ہے۔ اس بنیاد پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ جنوبی افریقہ کی طرح ہندوستان میں بھی اومیکرون کے کیسز بڑھیں گے لیکن زیادہ تر مریضوں کو اسپتال میں داخل نہیں ہونا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ان کا کہنا ہے کہ ‘یورپ میں قدرتی قوت مدافعت کم ہے، اس لیے وہاں مریضوں کی حالت قدرے سنگین نظر آ رہی ہے۔










