بنگلور :(ایجنسی)
حجاب پر ملک بھر میں بحث جاری ہے اور اس دوران بھگوا پرچم کے معاملے کو خفیہ طور پر ایک ایجنڈے کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بحث بھی زندہ ہو گئی ہے کہ آر ایس ایس نے کبھی ملک کے ترنگے جھنڈے کا احترام نہیں کیا۔ آر ایس ایس کے بانی گولوالکر نے اسے ایک ایسا جھنڈا قرار دیا ہے جو ہندوؤں کی توہین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کے ہندو صرف بھگوا کو ہی قبول کرتے ہیں۔
کرناٹک کے دیہی ترقی اور پنچایت راج کے وزیرکے ایس ایشورپا نے کل بیان دیا تھاکہ کسی دن دہلی کےلال قلعہ پر بھگوا جھنڈا لہرایاجائے ۔ اس کےبعد مستقبل میں بھگوا ہی قومی پرچم بن جائے گا۔ ایشورپا کایہ بیان شیموگہ میں اے بی وی پی کے حامیوں کی جانب سے بھگوا پرچم لہرانے کے بعد آیا ہے۔ تاہم کرناٹک کے اس وزیر کو شاید اس حقیقت کا علم نہیں کہ آر ایس ایس نے 52 سال بعد 2002 میں اپنے ناگپور ہیڈکوارٹر پر ترنگا لہرایا تھا۔
شیموگہ واقعہ کے بارے میں جب نامہ نگاروں نے ایشورپا سے سوال کیا تو انہوں نے کہا ، ’’وہ (کانگریس) کہتے ہیں کہ قومی پرچم ہٹا دیا گیا اور بھگوا جھنڈا لہرایا گیا۔ میں اس کی طرح جھوٹ بولنے کو تیار نہیں ہوں۔ ہم بھگوا پرچم لہرائیں گے۔ آج نہیں تو کل ہم بھگوا جھنڈا لہرائیں گے جب ہندو اس ملک پر راج کرے گا۔ ایشورپا کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کرناٹک کے قائد حزب اختلاف سدارامیا نے کہا، ’اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس قومی پرچم کا کوئی احترام نہیں ہے۔ ہمارا قومی پرچم ہمارے ملک کی عزت کی علامت ہے۔ بے عزتی پر سخت تنقید کریں۔‘










