نئی دہلی : (پریس ریلیز)
یونانی ڈرگس مینوفیکچررس ایسوسی ایشن (اُڈما) کی جانب سے 11 اکتوبر کو ورچوئل و ہائبرڈ پروگرام بمقام ہمدرد آرکائیوز آڈیٹوریم، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی بحسن و خوبی انجام پایا۔ صبح 10 بجے حکیم محسن دہلوی (جنرل سکریٹری، اُڈما) جو نظامت کے فرائض انجام دے رہے تھے، نے اپنے تمہیدی کلمات کے ساتھ افتتاحی سیشن کی شروعات کی۔
حکیم اعجاز احمد اعجازی (چیئر مین شعبہ نشر و اشاعت، اُڈما) نے تلاوت کلام پاک مع انگریزی و اردو ترجمہ سے پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر منجپارا مہندر بھائی مرکزی وزیر مملکت آیوش اور محکمہ برائے بہبودی خواتین و اطفال، حکومت ہند جبکہ مہمانانِ ذیشان کی حیثیت سے،عاصم علی خاں (ایڈوائزرـ یونانی و ڈائریکٹر جنرل، سی سی آریوایم)، ڈاکٹر وید راجیش کوٹیچا ( سکریٹری، وزارت آیوش، حکومت ہند) ، ڈاکٹر راجکمار منچندا (ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آف آیوش، حکومت قومی خطّہ دہلی)، حامد احمد (چانسلر، جامعہ ہمدرد و صدرـ اُڈما) اورآبشار عالم (وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد) اسٹیج پر جلوہ افروز تھے۔
مقبول حسن (نائب صدر، اُڈما)، محمد عارف (پیٹرون، اُڈما)، پرویز احمد خاں (ممبر،گورننگ باڈی، اُڈما و نائب چیئر مین، جشن یوم اُڈما)، سیّد منیر عظمت (ممبر گورننگ باڈی، اُڈما و آرگنائزگ سکریٹری یومِ اُڈما)، محمد جلیس (ممبر گورننگ باڈی، کوآرڈی نیٹر ـ ای، سووینئر)، محمد نوشاد (کوآرڈی نیٹر) حکیم یثمانیل عثمانی (ممبر، اُڈما) نے بالترتیب مہمان خصوصی اور مہمانان ذی وقار نیز صدر محترم کو شجر؍ بونسائی پلانٹ پیش کرکے عزت افزائی کی۔
سیّد منیر عظمت نے اپنے تحسین آمیز کلمات پر مبنی خطبہ استقبالیہ میں مہمانان کا فرداً فرداً استقبال کرتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ ہمارے چاروں معزز و قابل احترام مہمانان کشادہ قلب اور متحرک شخصیت کے حامل ہیں اور طب یونانی کے بہی خواہان کی حیثیت سے ہمارے معاون اور سرپرست ہیں نیز یونانی پیتھی کی بقا اور ترقی کے لیے اپنے دل میں نیک جذبہ رکھتے ہیں۔
بعد ازاں وزیر محترم، مہمانان ذی وقار اور اُڈما کے عہدیداران کے ہاتھوں ای۔ سوینئر مع ای۔ آیوش میلہ کا رسمِ اجراء عمل میں آیا۔ پروفیسر عاصم علی خاں کا خصوصی خطاب ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر راج کے منچندا، پروفیسر آبشار عالم (وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد) اور وید راجیش کوٹیچا کے بیانات ہوئے۔
بعد ازاں آل اندیا بی یو ایم ایس ٹاپرس کا اعلان کیا گیا اور سوئم، دوئم اور اوّل انعام یافتگان ڈاکٹر طوبیٰ بلال وانی، ڈاکٹر مہوش ایوب اور ڈاکٹر بشرٰی حسین کو ان کے والدین کی موجودگی میں بالترتیب 25,000، 35,000 اور 50,000 رقم مع میڈل مرکزی وزیر مملکت وزارت آیوش و محکمہ برائے بہبود خواتین و اطفال، حکومت ہند کے ہاتھوں دیا گیا۔ ساتھ ہی وزیر موصوف نے خطاب کیا۔
مہمان خصوصی، مہمانان ذی وقار، صدر اُڈما، مرکزی و صوبائی حکام، اُڈما کے معاونین کو بطور عزت افزائی شال اور مومنٹو پیش کئے گئے۔
حامد احمد (صدر اُڈما و چانسلر جامعہ ہمدرد) اور مقبول حسن (نائب صدرـ اُڈما) نے اپنے صدارتی خطبات میں قیام اُڈما کے مقاصد، سرگرمیاں اور مستقبل، کا خاکہ و لائحہ عمل کو تفصیل سے پیش کرتے ہوئے اراکین اُڈما کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی کاوشوں، جہد مسلسل اور بے لوث محنتوں کے نتیجے میں اس عظیم الشان پروگرام کا انعقاد ممکن ہوسکا۔
افتتاحی سیشن کے اختتام پر نبیل انور، جوائنٹ سکریٹری، اُڈما نے معزز مہمان خصوصی، مہمانان ذی وقار، شرکاء و ناظرین حضرات اور سرگرم اُڈما ٹیم کے ممبران کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں قومی ترانہ پیش کیا گیا۔
ایک گھنٹہ کے وقفہ کے بعد چار اہم موضوعات پر مشتمل علمی و فنی سیشن کا آغاز ہوا۔ مقرّرین میں ڈاکٹر مسرّت علی، پروفیسر عبداللطیف، ڈاکٹر اسامہ احمد اورڈاکٹر سعید احمد تھے جبکہ دوران خطابت چیئر پرسن کی حیثیت سےڈاکٹر کے ٹی اجمل ، پروفیسر ایس ایم عارف زیدی، ڈاکٹر محمد عارف اور نبیل انور ورچوئل و ہائبرڈ شریک تھے۔
پینل مباحثہ میں پروفیسر محمد ادریس، ڈاکٹر محمد خالد اورحکیم محسن دہلوی شریک تھے۔ پروگرام میں دیگر اہم موضوعات کے علاوہ اعلیٰ ترین معیار کی یونانی ادویہ سازی، لیباریٹری کی اہمیت، یونانی پیتھی: بغیر مضر اثرات کے محفوظ طریقہ علاج، حجامہ، مزاج و اخلاط، مطب مینجمنٹ، حقوق صارفین، فروغ کاروبار جیسے نہایت مفید، کارآمد اور اہم موضوعات پر مبنی مقررین کے معلومات افزا بیانات ہوئے۔ پروگرام کے دوران اُڈما کے سرگرم عہدیداران، ذمہ داران و معاونین پروگرام کے نظم و ضبط کو بخوبی انجام دے رہے تھے۔ پروگرام کےآخر میں اجتمائی طور پر قومی ترانہ پیش کیا گیا۔










