نئی دہلی: (ایجنسی)
کرناٹک کے کالجوں میں حجاب میں ملبوس طالبات کے داخلےنہیں دینے کی تنقید کرتے ہوئے، اپوزیشن پارٹیوں نے ہفتہ کو مذہبی لباس پہننے کے حق، تعلیم کا حق اور مساوات کے حق کے تین اصولوں پر زور دیا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کےمطابق کانگریس، ترنمول کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، این سی پی اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے دلیل دی کہ آئین شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کے بنیادی حق کی ضمانت دیتا ہے۔
پہلی بار اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے ٹویٹ کا:’طالبات کےحجاب کو ان کی تعلیم کی راہ میں آنے دینے سے ہم ملک کی بیٹیوں کا مستقبل ان سے چھین رہےہیں۔ ماں سرسوتی تمام کو علم دیتی ہے، وہ فرق نہیں کرتی۔‘
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملک ارجن کھرگے نے کہا،’طالبات کئی دہائیوں سے ہیڈ اسکارف پہن کر اسکول آتی رہی ہیں۔ اس سے پہلے کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اب وہ اس کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ وہ توجہ ہٹانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ روزگار نہیں ہے، وہ مہنگائی پر قابو نہیں پا رہے۔ وہ اڈوپی اور منگلور جیسے علاقوں کو ایک تجربے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو وہ اسے ریاست کے دیگر مقامات پر بھی دوہراسکتے ہیں۔
سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا، ’عدالتیں اس سے نمٹ رہی ہیں۔ عوام کے آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ یہ ہمارا موقف ہے۔‘
آئین کا حوالہ دیتے ہوئے آر جے ڈی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ منوج کمار جھا نے کہا، ’حجاب کوئی رکاوٹ نہیں ہے بلکہ اس کی مخالفت کرنے والوں کی ذہنیت میں خلل ہے۔‘ انہوں نے کہا، ‘میں ایک یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوں، پچھلے کئی سالوں سے میرے پاس بہت سی لڑکیاں ہیں جو حجاب پہنتی ہیں۔ یہ میرے ذہن میں کبھی نہیں آیا کہ مجھے اس کی فکر کرنی چاہیے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ آئین خاص طور پر آرٹیکل 25 (مذہب کی آزادی کا حق) کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ کیا اب ہم نے ہر اس خیال کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جو اس ملک کو عزیز ہے کیونکہ آپ لوگوں اور برادریوں کے درمیان ہر روز نئی رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتے ہیں تاکہ توجہ ہٹائی جا سکے۔
ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ سشمیتا دیو نے کہا کہ جہاں تک ملک کے پرسنل لاء، رسم و رواج اور روایات کا تعلق ہے، کوئی بھی لوگوں کو یہ نہیں بتا سکتا کہ کیا کرنا ہے اور کیا پہننا ہے؟ یہ ان کی ثقافت اور رسم و رواج کا حصہ ہے۔ آپ کو اس کا احترام کرنا چاہئے۔
بی ایس پی کے لوک سبھا ایم پی کنور دانش علی نے کہا کہ لڑکیوں کو حجاب پہننے سے روکنے کا یہ اقدام مودی حکومت کی ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘اسکیم کو کمزور کرتا ہے۔ ’ایک ملک کے طور پر، ہم لوگوں کے ایک بڑے حصے کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کو دوسری ترجیح سمجھتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم اب بھی بہت سی برادریوں بشمول دلتوں، آدیواسیوں خصوصاً مسلمانوں میں اولین ترجیح نہیں ہے۔‘
این سی پی کے رکن پارلیمنٹ ماجد مینن نے کہا،’اس اقدام کا مقصد دو مختلف کمیونٹیز کے طلباء کے درمیان دراڑیں پیدا کرنا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔‘ انہوں نے کہا، ‘کووڈ-19 سے متاثرہ تعلیم کے بحال ہونے کے بعد لڑکیوں کو حجاب کے معاملے پر دوبارہ پریشانی پیدا نہیں کرنی چاہیے۔ جب تک حکومتی کمیٹی کوئی فیصلہ نہیں لیتی تب تک یہ درست ہوگا کہ انتظامیہ ان طالبات کو کلاس میں داخل ہونے کی اجازت دے۔ تاہم، مسلم لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ کو اسکول یونیفارم کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔
تاہم شیوسینا کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی اس معاملے پر مختلف رائے رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکول تعلیم کی جگہ ہے اور طلبہ کو صرف طلبہ ہونا چاہیے نہ کہ کسی مذہب کے برانڈ ایمبیسڈر۔ چترویدی نے بتایا، ‘جب ہم اسکول میں تھے۔ اسکول کی وردی تمام مذاہب سے بالاتر تھی۔ اگر کوئی اسکول رولز بنا رہا ہے تو ہمارے لیڈر اور مذہبی رہنما اس میں شامل ہو کر اسے مذہب سے جڑا مسئلہ کیوں بنا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کو کلب میں داخل ہونے کے لیے سینڈل پہننے کی اجازت نہیں ہے، تو آپ ان اصولوں پر عمل کریں گے۔ اسکول تعلیم کی جگہ ہے اور ہر اسکول یونیفارم کے اصولوں پر عمل کرتا ہے۔
بتادیں کہ جنوری کے مہینے میں اسی ضلع کے کنداپور میں اسی طرح کے دو واقعات ہوئے ہیں جب کرناٹک کے اڈوپی ضلع کے ایک کالج میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے کے خلاف احتجاج کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ ان دونوں کالجوں میں بھی حجاب پہننے والی لڑکیوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔










