گورکھ پور:
11مسلمان پریواروں کو ’ تحفظ‘ کے سبب گورناتھ مندر کے پاس واقع اپنے گھروں کو اترپردیش سرکار کو سونپنے کے لیے کہا جا رہا ہے ۔ اطلاع کے مطابق سمجھوتہ خط کے مطابق اس ڈاکیومنٹ میں 11 لوگوں کا نام درج ہے، جن میں سارے اقلیتی طبقے سے آتے ہیں۔ ان 11 پریواروں میں سے 10 پریوار نے ڈاکیومنٹ پر 28 مئی 2021 کو سائن کردیا تھا۔
’دی کوئنٹ‘کی رپورٹ کے مطابق ضلع مجسٹریٹ وجیندر پانڈین نے بتایا کہ کسی کو بھی ڈاکیومنٹ پر سائن کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا گیا تھا اور اگر وہ چاہتے تو ڈیل کو انکار کرسکتے تھے۔ پانڈین نے کہاکہ ’ میں آپ کو خلاص کررہاہوں کہ انہیں اپنی زمین کے لیے کروڑ روپے ملنے والے تھے،‘ انتظامیہ نے بتایا کہ یہ پلان ابھی اپنے شروعاتی مرحلے میں ہے اور علاقے کے لوگوں نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی زبردستی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
’’’گورکھپور مندر کے آس پاس کےعلاقے میں سیکورٹی کودھیان میں رکھتے ہوئے ، انتظامیہ نے یہ فیصلہ لیاہے کہ صدر علاقے کے ٹپا ٹاؤن میں مندر کے جنوب و مشرق سمت میں مندرجہ ذیل نام والے لوگ اپنی زمین ریاستی حکومت کو دیں گے اور ہمارے اس پر دستخط اس بات کو ثا بت کرتے ہیں ہے، ہمیں اپنی زمین دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ براہ کرم نیچے دستخط کریں ۔‘‘
10 پریوار جنہوں نے دستخط کئے ہیں ، وہ ہیں محمد فیضان ، محمد ظاہر ، محمد شاکر حسین نگند خورشید عالم کے دو گھر، محمد جمشید عالم ، مشیر احمد ، اقبال احمد ، جاوید اختر اور نور محمد ۔ ایک کنبہ نے ابھی تک دستخط نہیں کیا ہے اور اس کی وجہ واضح نہیں ہے۔
کچھ معاملوں میںپراپرٹی کےنیچے ایک سے زیادہ نام ہے، کیونکہ وہ پراپرٹی کئی بھائیوں کی ہے۔
جو لوگ اپنی زمین نہیں دینا چاہتے تھے: دباؤ اور ڈر میں ایم او پر دستخط کیا ۔
70 سالہ مشیر احمد نے کہا کہ صرف مسلم گھرانوں کو ہی ایم او یو پر دستخط کرنے کے لئے کہا گیا تھا’’یہاں کسی ہندو خاندان کا گھر نہیں ہے۔ صرف 11 مسلم پریواروں کو دستخط کرنے ہیں۔ ہم یہاں 125 سال سے مقیم ہیں۔ ان 11 مسلمانوں میں سے کچھ پریوار جانے کو تیار ہیں۔ اگر جانے لائق ہے تو بیشک جائیں ، لیکن میری طرح غریب لوگ کہاں جائیں گے۔؟‘‘
اسی طرح 71 سالہ جاوید اختراپنے گھر میں 9 ممبروں کے ساتھ رہتے ہیں
’’پولیس کہہ رہی ہے کہ وہ مندر کی حفاظت کے لئے پولیس چوکی بنائے گی۔ اس کے لئے وہ ہمارا گھر خالی کرانا چاہتے ہیں۔
احمد اور اختر دونوں کے پاس کسی اور جگہ اپنا گھر بنانے کے لئے زمین نہیں ہے اوران دونوں نے بتایا کہ انہوں نے دباؤ میں دستاویز پر دستخط کیے۔ اختر نے وضاحت کی کہ ’کچھ دن پہلے وہ اچانک آئے اور کہا کہ ہمیں دباؤ میں دستخط کرنا ہوگا۔ کچھ مسلمان کنبے ایسے بھی ہیں جو ان کے ساتھ ہیں اور اسی وجہ سے وہ بھی دباؤمیں آئیں گے‘‘
احمد نے بتایا کہ ایک مقامی انتظامی افسر آیا اور ان کے گھر بیٹھ گیا۔ وہ انھیں بتاتے رہے کہ حکومت کس طرح اس علاقے میں سیکورٹی کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستاویز پر دستخط کریں ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ جب بھی آپ چاہتے ہیں اپنے دستخط واپس لے سکتے ہیں، کوئی غلط پیغام نہیں بھیجا جائے گا۔ تب ہی آس پاس کے لوگوں نے کہا کہ پہلے ہی کچھ غلط ہو رہا ہے ، لہٰذا غلط پیغام جانا طے ہے۔
جبکہ انتظامیہ نے اس کارروائی کو پولیس چوکی کے قیام سے منسوب کیا ، اختر نے کہا کہ علاقے میں پہلے ہی دو پولیس چوکیاں ہیں ایک مندر کے اندر اور دوسرا ہمارے گھر سے 100 فٹ کی دوری پر۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہمیں غیر ضروری طور پر ہٹایا جارہا ہے ۔
دونوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے بدھ 2 جون کو ایک میٹنگ طلب کی گئی تھی لیکن وہ دونوں نہیں گئے۔ ’ہم گورکھپور اور ہائی کورٹ میں وکلاء سے بات کر رہے ہیں اور ان کا مشورہ لے رہے ہیں۔ پھر ہم فیصلہ کریں گے کہ آگے کیا کرناہے۔‘
ڈی ایم نے سے پہلے پوچھا کہ رپورٹر کو یہ ڈاکیومنٹ کہاں سے ملا۔ ا نہوں نے کہا ’ان سب کے نمبر ہیں اس پر، اس لئے آپ براہ راست ان سے پوچھ سکتےہیں۔ یہ سب بس افواہ ہے، میں نہیں جانتا کہ ان لوگوں کے ارادے کیا ہیں۔ پھر انہیں کہاگیا کہ 2 لوگوں نے آن ریکارڈ بتایاہے کہ انہوں نے دستخط دباؤ میں کیا ہے ۔ اس پر ڈی ایم نے کہاکہ پھر ٹھیک ہے ، ہمیں اپنی زمین نہیں دیجئے، ان پر کسی طرح کا دباؤ نہیں ہے۔ ہم ان پر کہاں دباؤ بنا رہے ہیں؟ یہ سارا عمل اب بھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ان لوگوں نے خود دستخط کرکے کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر حکومت نے پوچھا تھا کہ وہ زمین دینے کو تیار ہیں یا نہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ تیار نہیں ہیں تو بھی ٹھیک ہے۔











