مظفرنگر : (ایجنسی)
سماجوادی پارٹی کے سپریمو اکھلیش یادو نے دوٹوک لہجہ میں دعویٰ کیا کہ ان کی سیدھی لڑائی بی جے پی سے ہے، کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی بتائیں کہ وہ کس سے لڑرہی ہیں۔ این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بی جے پی اور سی ایم یوگی کو خوب کھری کھوٹی سنائیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کمزور طبقوں اور اقلیتوں سمیت سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، جبکہ بی جے پی سماج کو توڑ رہی ہے۔
تفصیلات کےمطابق اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ یوپی اسمبلی انتخابات 2022 میں ہماری سیدھی لڑائی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ سماج وادی پارٹی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہے اور آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان سیدھا مقابلہ ہے۔ بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے اکھلیش یادونے کہا کہ یوگی جی تقسیم کی سیاست کرتے ہیں اور ہم جوڑنے کی سیاست کرتے ہیں۔ جمعرات کو مظفر نگر میں اپنی ریلی کے دوران انہوں نے این ڈی ٹی وی سے مختلف مسائل پر بات کی۔
اس سوال پرکہ آپ مظفر نگر میں ہیں جو فسادات کا مرکز تھا، دو دن پہلے یوگی جی نقل مکانی کا مسئلہ اٹھا کر گئےہیں، آپ کا کیا کہنا ہے؟ کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ یہاں کسان اتنی بڑی تحریک کر رہے ہیں۔یہ کسانوں کی بات کیوں نہیں کرتے۔ یہ مہنگائی کی بات کیوں نہیں کرتے۔ اصل مسائل سے توجہ بھٹکانے کے لیے یہ نقل مکانی کی، بانٹنے کی بات کررہے ہیں۔ یوگی جی خود اترا کھنڈ سے نقل مکانی کرکے آئے ہیں۔ یہاں ووٹ توعوام نے بی جے پی کو دیا مگر کالی پٹی باندھ کر وہ وزیر اعلیٰ بن گئے۔
بی جے پی آپ پر ذات پات کی سیاست کرنے کا الزام لگاتی ہے؟ کہتے ہیں کہ آپ مذہب اور خاص ذات کی سیاست کرتےہیں ؟ اکھلیش نے کہا کہ ہم نے کئی دوسری ذاتوں کو جوڑا ہے ۔ او پی راج بھر آئے ہیں۔ دوسری ذاتوں کے تمام لوگ جڑ رہےہیں۔ سماج وادی پارٹی تمام ذاتوں کو ساتھ لے کر چل رہی ہے۔ وہ بانٹنے کی سیاست کررہے ہیں ۔ ابھی دیکھیں گے اورگٹھ بندھن ہوں گے ۔ کیا آپ کا جینت چودھری کے ساتھ اتحاد بھی ہوگا ، کیونکہ حال ہی میں وہ پرینکا گاندھی سے مل کر آئے ہیں؟اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ 2019 میں بھی ہم نے مل کر الیکشن لڑا تھا۔ ہمارا وہ اتحاد اب تک برقرار ہے،سیٹوں پر بات چیت ہو رہی ہے۔ سیٹوں کی تقسیم کے حوالے سے معمولی اتار چڑھاؤ ہے، لیکن ہم ساتھ ہیں اور مل کر الیکشن لڑیں گے۔
پرینکا گاندھی کی آپ سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہا آ پ سے کہ آپ نے ان کی پارٹی کے تمام بزدل شامل ہوگئےہیں ۔ اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اصلی کانگریسی کبھی بزدل نہیں ہوسکتا۔ ہم کہہ رہےہیں کہ یہ باتیں نہیں ہونی چاہئے۔ ہماری لڑائی سیدھی بی جے پی سے یوگی سے ہے۔ عوام کو معلوم ہے کہ سماج وادی پارٹی ہی اہم اپوزیشن پارٹی ہے اور بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کی سیدھی لڑائی ہے ۔ ہماری لڑائی یوگی سے ہے پرینکا طے کریں کہ ان کی لڑائی کس سے ہے۔
ایک اور سوال کہ بی جے پی نے آپ کے جناح کے بیان کو بڑا سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے؟ بی جے پی آپ کو گھیر رہی ہے؟اس کے جواب میں اکھلیش نے کہاکہ میرا جواب یہ ہے کہ میری پوری تقریر دیکھیں۔ میں نے کہا کہ یہ سارے لیڈر ایک ہی جگہ سے پڑھ کر آئے ہیں۔ان کے پاس کوئی مسائل نہیں ہے تو یہ جناح اور بانٹنے کی باتیں کررہے ہیں ۔ ہمارے کئی اتحاد ہورہےہیں ۔ پوروانچل سےلے کر مغربی یوپی تک ہماری ہوا شروع ہوچکی ہے ۔ یوگی جی بانٹنے کی سیاست کرتے ہیں اورہم جوڑنے کی ۔









