لکھنؤ: (ایجنسی)
اترپردیش اسمبلی انتخابات 2022سے قبل سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ ایک دوسرے پر حملے بھی تیز کر رہے ہیں۔
اب سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے رہنما اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ ان کے فون ٹیپ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ الزام اپنے بعض سیاسی ساتھیوں کے ٹھکانوں پر پڑے چھاپے کے بعد لگایا ہے۔
اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے رہنماؤں کے فون ٹیپ کیے جا رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ خود بات چیت سنتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوگی یہ کام ہر روز شام کو کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ مجاز افسر کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی شہری کا فون ٹیپ کرنا یا سننا غیر قانونی ہے۔
بتادیں کہ محکمہ انکم ٹیکس کے اہلکاروں نے یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ کے قریبی ساتھیوں جینندر یادو، پارٹی لیڈر اور ترجمان راجیو رائے اور ایک اور لیڈر منوج رائے کے گھر پر چھاپے مارے ہیں۔ اس لئے اکھلیش یادو نے اتوار کو کہا کہ ’ یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی کے دوسرے لیڈر سماج واج وادی پارٹی سے ڈرگئےہیں اوریہ مان چکے ہیں کہ آئندہ یوپی انتخابات میں بی جےپی کی ہار یقینی ہے، اس لئے مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کررہے ہیں ۔
اکھلیش یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’یوگی اپیوگی نہیں ان اپیوگی ہیں۔‘وہ وزیر اعظم نریندرمودی کی اس بات کا جواب دے رہے تھے کہ ’ یوپی +یوگی مطلب اپیوگی‘ یعنی یوگی آدتیہ ناتھ اپیوگی ہیں۔
اکھلیش نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعلیٰ ان اپیوگی ہیں۔ انہیں کمپیوٹر اور اسمارٹ فون بھی چلانا نہیں آتا۔ اگر کوئی انہیں کمپیوٹر دکھادےتو وہ ڈر جاتے ہیں۔
اکھلیش نے چھاپےماری کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے مرکزی ایجنسیوں کی آڑ میں چھاپے مار کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ابھی تو انکم ٹیکس محکمہ آیا ہے ، ای ڈی اورسی بی آئی کا آنا باقی ہے ۔ ‘ چھاپوں کاحوالہ دیتے ہوئے یادونے کانگریس کو بھی نشانہ پر لیا اور کہاکہ بی جے پی اس اسکرپٹ پر کام رہی ہے جو کانگریس بطورحکومت سونپ کر گئی ہے۔‘









