لکھنؤ :(ایجنسی)
اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں عروج پر ہیں ۔ سیاسی جماعتیں ووٹروں لو لبھانے کیلئے پوری طاقت جھونک رہی ہیں ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بھی اس مرتبہ یوپی کے انتخابی میدان میں اتری ہوئی ہے ۔ اسی سلسلہ میں اسد الدین اویسی نے بدھ کو بلاری اسمبلی حلقہ میں ایک انتخابی ریلی کو خطاب کیا اور لوگوں سے اے آئی ایم آئی کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ۔
اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے خطاب کرتے ہوئے کرناٹک میں جاری حجاب تنازع کا معاملہ بھی اٹھایا ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یوپی کی خواتین سے کہا کہ وہ حجاب اور برقع پہن کر ووٹ ڈالنے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ حجاب اور برقع پہننا تو ہمارا حق ہے ، آئین میں ہمارا بنیادی حق ہے ، میں کیا پہنتا ہوں ، کیا کھاتا ہوں ، کسی کو جھانکنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’میری بیٹی کیا پہنے گی ، میری ماں کیا پہنے گی ، میری بہن کیا پہنے گی ، میری خالہ کیا پہنے گی ، ارے تو اپنے گھر کی فکر کر ، میرے پیچھے کیوں پڑا ہے، کیا ہم پوچھ کر پہنیں کے کیا پہننا ہے‘ ۔
اسد الدین اویسی نے میڈیا پر بھی طنز کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ’میڈیا بولتی ہے تم خواہ مخواہ اس کو اترپردیش میں لے آئے ، داڑھی میری ، ٹوپی میری ، برقع میرا، تم کو کیا کرنا ہے اس سے ۔‘ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران ملالہ یوسف زئی کا بھی تذکرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی پر حملہ پاکستان میں ہوا تھا ، ملالہ وہاں سے نہیں پڑھی تو اس کو برطانیہ جانا پڑا ۔ یہ ہماری بچیاں یہاں پر رہیں گی ، عزت سے رہیں گی ، پڑھیں گی اور نیک اور قابل بنیں گی ۔










