سورت: (ایجنسی)
گجرات کے سورت میں ’ ‘پاکستانی فوڈ فیسٹیول‘ کے نام سے منعقد ہونے والے ایک پروگرام کو لے ر بجرنگ دل کے لوگ مشتعل ہو گئے۔ ان کے دباؤ کے بعد پروگرام کے منتظمین کو نام بدل کر سی فوڈ فیسٹیول رکھنا پڑا۔
سور ت میں ٹیسٹ آف انڈیا نام سے ریستوران کی چین چلانےوالےسندیپ داویر نے ’ پاکستانی فوڈ فیسٹول ‘ نام سے 12 سے 22 دسمبر تک ہونے والے اس پروگرام کا ہورڈنگ اپنے ریستوران کی چھت لگایا تھا۔
سورت میں کانگریس کے کونسلر اسلم سائیکل والا نے اس کی ویڈیو بنائی اور اسے فیس بک پر شیئر کردیا۔ کچھ ہی دیر میں ویڈیو وائرل ہو گئی اور بجرنگ دل کے کارکن ریسٹورنٹ پہنچ گئے۔ وہاں وہ عملے کو دھمکیاں دیتے ہوئے عمارت کی چھت پر پہنچے اور ہورڈنگ کو نیچے اتار کر جلا دیا۔ اس دوران انہوں نے جے شری رام اور ہر ہر مہادیو کے نعرے بھی لگائے۔ بجرنگ دل کے رہنما دیوی پرساد دوبے نے کہا ہے کہ ریسٹورنٹ کے مالک نے معافی مانگ لی ہے لیکن اگر اس فیسٹیول میں کوئی پاکستانی کھانا پیش کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے اور اس کے لیے ریسٹورنٹ کا مالک ذمہ دار ہوگا۔ داویر کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ کھانا ایک جیسا ہوتا ہے اور ہم نے اس تقریب کے لیے کسی پاکستانی شیف کو مدعو نہیں کیا۔ کانگریس لیڈر سائیکل والا نے کہا کہ دویر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے کیونکہ وہ بی جے پی لیڈروں کا قریبی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہی پروگرام کوئی مسلمان کرتا تو کیا ہوتا؟
گزشتہ کچھ دنوں میں بی جے پی کی حکومت والی کئی ریاستوں میں بجرنگ دل اور ہندو تنظیموں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان میں ہندو تنظیموں کے لوگوں کا روہتک میں ایک چرچ میں گھسنا، کرناٹک میں عیسائی کتابوں کو آگ لگانا، کرناٹک کے بیلگاوی میں چرچ کے جائے عبادت میں گھسنا، مدھیہ پردیش کے ضلع ودیشا کی تحصیل گنج بسودا کے سینٹ جوزف اسکول میں ہنگامہ آرائی کرنا وغیرہ شامل ہیں۔









