اسرائیلی پولیس نے پیر کے روز یروشلم کے شمالی علاقے رامات میں بس اسٹیشن کے قریب مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ واقعے کے فوراً بعد رامات کے تمام داخلی راستے بند کر دیے گئے۔راموت جنکشن پر حملے کے پیچھے مغربی کنارے کے 2 فلسطینی بتائے جاتے ہیں جبکہ وہاں موجود آف ڈیوٹی سپاہی، اور مسلح شہریوں نے حملہ آوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ آئی ڈی ایف نے ان کے آبائی گاؤں پر چھاپے مارے۔سیکورٹی بڑھادی
ٹائمز آف اسرائیل Times of israel کے مطابق یروشلم کے راموت جنکشن میں فلسطینی جنگجووں کے ایک جوڑے کی گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں پر فائرنگ کے نتیجے میں پیر کو چھ افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے، جن میں سے چھ کی حالت تشویشناک ہے۔
عرب میڈیا نے بتایا کہ دو بندوق بردار، مغربی کنارے کے رہائشی، صبح 10 بجے کے فوراً بعد جنکشن پر پہنچے ـکچھ رپورٹس کے مطابق، کار سےـ انہوں نے ایک بس اسٹاپ پر انتظار کر رہے لوگوں کے ساتھ ساتھ ایک بس پر بھی فائرنگ کی جو ابھی وہاں رکی تھی۔۔ مزید بتایا گیا کہ حملہ آور ایک گاڑی میں آئے تھے اور بس اسٹیشن کو نشانہ بنایااس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں اپنی موجودگی بڑھا دی اور کہا کہ مزید حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ فوج کے بیان میں کہا گیا کہ رام اللہ کے گرد کئی علاقوں کا محاصرہ کیا گیا ہے اور یروشلم میں ہونے والے واقعے کی تفتیش جاری ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر نے بتایا کہ انہوں نے واقعے کے بعد سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ یروشلم میں اس نوعیت کا واقعہ تقریباً دو برس بعد پیش آیا ہے۔ آخری بڑا حملہ اکتوبر 2024ء میں تل ابیب کے قریب ایک فوجی اڈے کے پاس ہوا تھا جہاں ایک کار حملے میں متعدد اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے تھے
**فائرنگ کے واقعے میں 7 افراد ہلاک ہونے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاھو پیر کو "رامات” کے علاقے کے اس مقام پر پہنچے جہاں مسلح حملہ پیش آیا تھا۔ انہوں نے مزید سخت اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔نیتن یاھو جو شاذ و نادر ہی اس طرح کے واقعات کی جگہ پہنچتے ہیں، نے جائے وقوعہ کے دورے کے دوران کہا کہ "اسرائیل غزہ، یروشلم اور دیگر محاذوں پر دہشت گردی کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔”








