نئی دہلی :(ایجنسی)
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی کے قافلے پر مبینہ طور پر فائرنگ کرنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بتا دیں کہ اویسی یوپی اسمبلی انتخابات کی مہم کے بعد میرٹھ کے کیتھور علاقے سے دہلی جا رہے تھے۔ اس دوران ان کے قافلے پر فائرنگ کی گئی۔
گرفتاری کے بارے میں ہاپوڑ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپک بھوکر نے کہا، ’’سچن اور شبھم دو کو اسد الدین اویسی کے قافلے پر حملے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ معاملہ زیر تفتیش ہے۔‘ بھوکر کا کہنا ہے کہ اویسی کے’ہندو مخالف‘ بیانات سے ملزمان مجروح تھے۔ پولیس کے مطابق گاڑی پر چار گولیاں چلائی گئیں۔ تاہم، ہاپوڑ ضلع کے پلکھوا کے قریب چھجارسی ٹول پلازہ پر شام 5:30 بجے کے قریب پیش آنے والے اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
بتا دیں کہ اویسی نے حملے کے بارے میں بتایا کہ حملہ آوروں نے کار کا ایک ٹائر پنکچر کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوک سبھا کے اسپیکر سے ملاقات کریں گے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کو خط لکھیں گے۔
جمعرات کو اسد الدین اویسی نے حملے کے بارے میں کہا تھا کہ میں میرٹھ (یو پی) کے کیتھور میں انتخابی پروگرام کے بعد دہلی جا رہا تھا۔ چھجارسی ٹول پلازہ کے قریب2 لوگوں نے میری کار پر 3-4 راؤنڈ فائرنگ کی۔ وہ کل 3-4 لوگ تھے۔ میری گاڑی کے ٹائر پنکچر ہو گئے، میں دوسری گاڑی میں وہاںسے نکلا۔
حملے کے بعد انہوں نے کہاکہ ہماری الیکشن کمیشن سے درخواست ہے کہ اس معاملہ کی آزادانہ جانچ کرائی جائے ۔مرکزی اور ریاستی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ہم مودی حکومت اور ریاستی حکومت دونوں سے کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ایم پی پر 4 راؤنڈ فائر نگ کی جاتی ہے۔
حملہ کےبعد اویسی کو ملی زیڈسیکورٹی
دریں اثناء حیدرآباد کے لوک سبھا ایم پی اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی کو پورے ہندوستان میں زیڈ پلس( Z+) سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔ حکومت ہند نے اس کا اعلان کیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی زیڈ پلس سیکورٹی پورے ملک میں ان کے پاس رہے گی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جمعرات کی شام ان پر اترپردیش کے ہاپوڑ ضلع میں حملہ ہوا تھا۔ وہ انتخابی مہم کے بعد دہلی واپس آرہے تھے۔ یہ حملے یوپی اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے ہوئے، جس کے بعد سیاست شروع ہوگئی ہے۔
اتر پردیش پولیس کے اے ڈی جی (لاء اینڈآرڈر) پرشانت کمار نے جمعہ کو کہا کہ ملزمین نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ انہیں اسد الدین اویسی کے سال 2013-14 میں رام مندر کے بارے میں دیے گئے بیان سے تکلیف ہوئی ہے۔یوپی پولیس کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ گرفتار ملزم سچن اور شبھم کو اسدالدین اویسی کے مخصوص مذہب کے خلاف بیانات سے کافی دکھ ہوا ہے۔ اسی وجہ سے اس نےانہوں نے اسدالدین اویسی پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔ بتا دیں کہ گرفتار ملزمین میں سچن گوتم بدھ نگر کا رہنے والا ہے اور شبھم سہارنپور کا رہنے والا ہے۔ سچن سے 9 ایم ایم کا غیر قانونی آتشیں اسلحہ بھی برآمد کیاگیاہے۔ اتر پردیش پولیس نے اس واقعہ کی مکمل رپورٹ الیکشن کمیشن اور لوک سبھا کو بھیج دی ہے۔










