پریاگ راج :(یجنسی)
اومیکرون ویرینٹ کےتیزی پھیلنے کے درمیان الہ آباد ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کیاہے۔ کورٹ نے الیکشن کمیشن اوروزیر اعظم مودی سے اپیل کی ہے کہ الیکشن کو کچھ وقت کےلیے ٹال دیا جائے اورساتھ ہی ریلیوں پر بھی روک لگا دی جائے۔ بتادیں کہ اومیکرون ویرینٹ کی رفتار انتہائی تیز ہے اور کچھ ہی دنوں میں یہ کئی ریاستوںمیں پیر پسار چکاہے ۔
جسٹس شیکھر کمار یادو نے یہ بات ملزم سنجے یادو کو ضمانت دیتے ہوئے کہی ۔ سنجے یادو کے خلاف پریاگ راج کے کینٹ تھانے میں مقدمہ درج ہے ۔ ضمانت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ آج اس عدالت کے سامنے تقریباً چار سو مقدمات درج ہیں۔ عدالت نے کہا کہ زیادہ معاملات ہونے کی وجہ سے وکلا کی تعداد زیادہ ہے اور ان کے درمیان کوئی سماجی فاصلہ نہیں ہے ۔ وکلا ایک دوسرے کے قریب کھڑے ہوتے ہیں جب کہ کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور تیسری لہر آنے کا امکان ہے ۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ اخبارات کے مطابق 24 گھنٹوں میں چھ ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور 318 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ یہ پریشانی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ اس خوفناک وبا کے پیش نظر چین، نیدرلینڈ، آئرلینڈ، جرمنی، اسکاٹ لینڈ جیسے ممالک نے مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ ایسے میں رجسٹرار جنرل ہائی کورٹ الہ آباد سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کیلئے اصول بنائیں۔
عدالت کے مطابق ایسی خوفناک صورتحال روزانہ اخبارات اور ٹی وی چینلز میں دکھائی جا رہی ہے ۔ پچھلی لہر میں ہم نے دیکھا ہے کہ لاکھوں لوگ کورونا سے متاثر ہوئے اور لوگوں کی اموات ہوئیں ۔ گرام پنچایت کے انتخابات اور بنگال اسمبلی انتخابات نے لوگوں کو بہت متاثر کیا، جس کی وجہ سے لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔
عدالت نے مزید کہا کہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات قریب ہیں ، جس کے لئے سبھی سیاسی پارٹیاں ریلی اور جلسے وغیرہ کر کے لاکھوں لوگوں کو جمع کر رہی ہیں ۔ جہاں کسی بھی طرح سے کورونا پروٹوکول پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے اور اسے بروقت نہیں روکا گیا تو اس کے نتائج دوسری لہر سے کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں الیکشن کمشنر سے عدالت کی درخواست ہے کہ وہ ایسی ریلیوں، جلسوں وغیرہ پر فوری طور پر روک لگا دیں ، جن میں بھیڑ جمع ہوتی ہے۔ نیز سیاسی پارٹیوں کو ہدایت دیں کہ وہ اپنی مہم اور تشہیر ریلیوں اور جلسوں میں بھیڑ اکٹھا کرکے نہیں ، بلکہ دوردرشن اور اخبارات کے ذریعہ کریں۔
عدالت نے مزید کہا کہ اگر ممکن ہو تو فروری میں ہونے والے انتخابات کو ایک دو ماہ کے لئے ملتوی کر دیں کیونکہ جان رہی تو انتخابی ریلیاں اور جلسے ہوتے رہیں گے۔ ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 میں ہمیں زندگی کا حق بھی دیا گیا ہے۔










