نئی دہلی: پریس کلب آف انڈیا (پی سی آئی) اور انڈین ویمنز پریس کور (آئی ڈبلیو پی سی) نے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پرائیویسی (ڈی پی ڈی پی) ایکٹ پر اپنے خدشات کے بارے میں الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کو کل 35 سوالات پیش کیے ہیں۔
یہ سوالات 28 جولائی کو پریس کلب آف انڈیا، IWPC، Digipub اور ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے دوران وزارت کے سکریٹری ایس کرشنن کی طرف سے مانگے گئے ‘اکثر پوچھے گئے سوالات’ (FAQs) کی فہرست کا حصہ ہیں۔
یہ میٹنگ پریس کلب آف انڈیا کی پہل پر بلائی گئی تھی۔ پریس کلب نے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو سے ملاقات کا وقت مانگا تھا اور پریس انفارمیشن بیورو (PIB) کے پرنسپل ڈائریکٹر جنرل کے ذریعہ انہیں ایک مشترکہ میمورنڈم پیش کیا تھا۔ یادداشت پر ملک بھر کی 21 منتخب پریس تنظیموں اور ایک ہزار سے زیادہ صحافیوں نے دستخط کیے تھے۔
میمورنڈم میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ قانون میں صحافیوں کو کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے۔ لیکن وزیر سے ملاقات کا وقت دینے کے بجائے وزارت کے سکریٹری نے نمائندوں سے ملاقات کی اور میمورنڈم میں اٹھائے گئے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
اس کے بعد پریس کلب اور آئی ڈبلیو پی سی نے اپنے ممبران کا اجلاس منعقد کیا اور تجاویز اکٹھی کیں اور 35 سوالات کی فہرست تیار کی، تاکہ اس عمل کو جمہوری بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون صحافیوں کے کام کرنے کے حق کی خلاف ورزی کر سکتا ہے (آرٹیکل 19 کے تحت آئین کی طرف سے ضمانت دی گئی حق)۔
23 اگست کو، یہ سوالات پی آئی بی کے پرنسپل ڈائریکٹر جنرل دھیریندر اوجھا کو وزارت سے وضاحت طلب کرنے کے لیے سونپے گئے، تاکہ ان کے ذریعے سیکریٹری تک پہنچ سکے۔
کرشنن کو لکھے گئے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکثر پوچھے گئے سوالات کی کوئی قانونی شناخت نہیں ہے، یہ صرف وزراء کی طرف سے وضاحتیں ہیں۔ لہٰذا صحافتی تنظیموں اور صحافیوں کا بنیادی مطالبہ ایک ہی ہے کہ قانون میں ترمیم کی جائے اور یہ سطور واضح طور پر شامل کی جائے کہ ’’صحافتی کام کی چھوٹ ہے‘‘۔











