نوئیڈا :(ایجنسی)
اترپردیش میں اپنی عوامی رابطہ مہم پرنکلیں پرینکا گاندھی نے یوگی سرکار پر سخت نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہاکہ یوگی سرکارکو الیکشن کے 80 فیصد بنام 20 فیصد کے درمیان ہونے جیسا بیان دینے کے بجائے روزگار، طبی خدمات اورتعلیم سے جوڑے اعدادوشمار سامنے رکھنے چاہئے۔ ادھریوگی نے پلٹ وار کرتےہوئے کہاکہ ان کے وقت میںنوکری کو لےکر ایک پیسہ کی رشوت لینے کاالزام نہیں ہے۔
اتر پردیش اسمبلی انتخاب کو لے کر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی آج نوئیڈا میں پارٹی امیدوار پنکھڑی پاٹھک کے لیے انتخابی تشہیر کرتی ہوئی نظر آئیں۔ اس دوران انھوں نے ڈور ٹو ڈور مہم بھی چلائی۔ انھوں نے ریاست کی یوگی حکومت پر حملہ آور ہوتے ہوئے کہا کہا کہ ’’بی جے پی حکومت 20-80 فیصد کی بات کر رہی ہے، لیکن حکومت یہ کیوں نہیں بتا رہی کہ کتنے فیصد نوجوان بے روزگار بیٹھے ہوئے ہیں؟ تعلیم کے بجٹ میں جتنے فیصد پیسے خرچ ہوئے ہیں وہ پہلے سے کم کیوں ہو گئے ہیں؟ کتنا فیصد پیسہ صحت کی سہولتوں پر خرچ کریں گے؟‘‘
پرینکا گاندھی نے نوئیڈا میں لوگوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ ذات پات اور فرقہ پرستی پھیلانے سے صرف سیاسی پارٹیوں کو فائدہ ہوتا ہے، عوام کا اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ عوام ہر لیڈر کو جوابدہ بنائے اور ان سے اپنی پریشانیوں کو لے کر سوال پوچھیں۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ سب سے گزارش کرنا چاہتی ہوں کہ اس انتخاب کو اپنے لیے مفید بنائیں۔
اس دوران پرینکا گاندھی نے کہا کہ ریلوے این ٹی پی سی کے طلبا پریشان ہیں، ان پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہیں، لیکن کوئی ان کی بات نہیں سن رہا۔ دو سال سے یوپی میں کام کر رہی ہوں۔ میں نے بار بار دیکھا ہے جب امتحان آتا ہے تو کسی نہ کسی وجہ سے رد ہو جاتا ہے، یا پھر پیپر لیک ہو جاتا ہے، امتحان ہونے کے بعد کَٹ آف بدل جاتا ہے۔ پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ ناراض تمام نوجوان ایسے ہیں جن کے کیریر برباد ہو چکے ہیں۔ جو سالوں سے انتظار کر رہے ہیں کہ امتحان دیا ہے تو ملازمت ملے گی، لیکن بار بار گھوٹالہ ہو رہا ہے۔ جب وہ آواز اٹھا رہے ہیں تو آپ پٹائی کر رہے ہیں۔ نوجوانوں پر ایسی ایسی دفعات لگائی جا رہی ہیں کہ جیل چلے جاتے ہیں، بعد میں یونیورسٹی نہیں جا سکتے۔ ہم نے ان مسائل کا حل نکالنے کے لیے ایک منشور تیار کیا ہے۔ ان کو پڑھیں، کیونکہ ہم ٹھوس بات کر رہے ہیں، اِدھر اُدھر کی بات نہیں کر رہے۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیاں صرف اِدھر اُدھر کی بات کر رہی ہیں۔ نوجوانوں کے مستقبل کی بات نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی ترقیاتی کاموں کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ ترقی کی بات ہونی چاہیے، ہم نے نوجوانوں کے لیے انتخابی منشور نکالا ہے۔ سبھی بول دیتے ہیں 20 لاکھ ملازمت دیں گے، لیکن یہ روزگار آئیں گے کیسے، اس کے بارے میں نہیں بتاتے۔ کانگریس نے یہ طے کیا ہے کہ ہم نوجوانوں کو بتائیں گے کہ یہ روزگار کیسے آئیں گے۔ 12 لاکھ روزگار حکومت میں خالی پڑے ہیں۔ ہم کس طرح سے بھریں گے، اگر آپ اپنا چھوٹا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں تو حکومت کس طرح آپ کی مدد کرے گی، ہم یہ بتائیں گے۔
یوپی کانگریس کی انچارج پرینکا گاندھی سیکٹر 72 میں کچھ اہم خواتین کے ساتھ میٹنگ میں بھی شریک ہوئیں۔ میٹنگ کے دوران خواتین کے مسائل اور ان کے حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ خواتین کو مضبوط کیا جائے اور ہر شعبہ میں خواتین کی شراکت داری کو یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب یوگی نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پانچ سال پہلے دبنگ اور دنگائی ہی قانون تھے، ان کا کہا انتظامیہ کاحکم تھا لیکن پانچ سال میں ہماری سرکار ریاست کو ان حالات سے باہر نکالا ہےاور یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوپی سرکارنے 5 لاکھ نوجوانوں کو روزگار دیے لیکن اس کے بعد بھی کوئی بدعنوانی ریاست میں نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ کوئی بھول نہیں سکتا کہ پانچ سال پہلے یوپی کو لےکر کیا بحث ہوتی تھی۔ پانچ سال پہلے دبنگ اور دنگائی ہی قانون تھے۔ ان کاکہا انتظامیہ کا حکم تھا۔ پانچ سال پہلےتاجر وں کو لوٹاجاتا تھا، بیٹی گھر سے باہر نکلنے میں گھبراتی تھی اور مافیا سرکاری تحفظ میں کھلے عام گھومتے تھے۔ مغربی یوپی کے لوگ کبھی نہیں بھول سکتے کہ جب یہ علاقہ فساد کے آگ میں جل رہا تھا تو تب کی سرکار اتسو مانا رہی تھی۔











