نئی دہلی ؍ لکھنؤ (ایجنسی)
کاس گنج صدر کوتوالی کے لاک اپ میں الطاف کی موت کو لے کر کانگریس سمیت اپوزیشن پارٹیاں یوپی حکومت کو گھیرنے میں مصروف ہیں۔ جمعرات کو بھی کانگریس لیڈروں کے متاثرہ خاندان کے گھر پہنچنے کا سلسلہ جاری رہا۔ کانگریس کا وفد دن میں پہنچا۔ قبل ازیں شام کو راشد علوی نے متاثرہ خاندان کو تسلی دی۔ اس کے بعد کانگریس لیڈر سلمان خورشید بھی نگلہ سید گاؤں میں متوفی الطاف کے گھر پہنچے۔ بتایا گیا ہے کہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی کاس گنج آ سکتی ہیں۔
الطاف کی موت کے بعد شہر میں پہلے ہی کشیدگی ہے۔ اس کے ساتھ سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے سے حساسیت اور بڑھ گئی ہے۔ چپے چپے پر پولیس تعینات کی گئی ہے۔ گاؤں نگلہ سید چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ ایس پی روہن پرمود بوترے نے بتایا کہ سیکورٹی کےحوالہ سے گاؤں میں پولیس بل تعینات ہے ۔ شہر میں بھی احتیاط برتی جا رہی ہے ۔ امن وامان بنا ہوا ہے ۔ مقتول کے اہل خانہ کی پولیس ہر ممکن مدد کررہی ہے ۔
گاؤں نگلہ سید پہنچے سلمان خورشید نے متاثرہ اہل خانہ کو تسلی دی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس حراست میں موت ہونا ایک سنگین جرم ہے ۔ سب سے پہلے ایف آئی آر درج ہونی چاہئے۔ ہمیں قانونی لڑائی لڑنی ہوگی۔ پہلے ایف آئی آر درج کر کے ملزمین کی گرفتاری ہو۔ ہم متاثرہ اہل خانہ کو قانونی مدد دیں گے چاہئے ہائی کورٹ جانا پڑے یا پھر سپریم کورٹ۔
سلمان خورشید نے کہا کہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات ہیں، پہلے ایف آئی آر درج کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ الطاف کے والدین سے ملے ہیں، ان سب کی حالت خراب ہے۔ کانگریس ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھائے گی۔ بتادیں کہ الطاف کی موت 9 نومبر کو صدر کوتوالی کے لاک اپ میں ہوئی تھی۔ اس پر لڑکی کو اغوا کرنے کا الزام تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ الطاف نے خودکشی کی ہے۔
کانگریس رہنما راشد علوی نے کہا کہ الطاف کی موت کا معاملہ قتل کا مقدمہ ہے۔ اس معاملے میں پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ انتظامیہ نے الطاف کے والد پر دباؤ ڈال رکھا ہے۔ پولیس انتظامیہ نے والد کو یہ لکھوایا کہ یہ خودکشی ہے۔ یہ حکومت کے دباؤ کا بڑا ثبوت ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے راشد علوی نے کہا کہ وہ پرینکا گاندھی کی ہدایت پر یہاں آئے ہیں اور انہیں اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔ پرینکا بھی یہاں آ سکتی ہیں۔
الطاف کی ہلاکت کے بعد سے صدر کوتوالی پولیس کی ناکہ بندی ہے۔ ایس پی روہن پرمود بوترے نے اس سے قبل صدر کوتوالی کے انسپکٹر، دو سب انسپکٹر اور دو کانسٹیبلوں کو معطل کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے دو دن بعد جمعرات کو ایس پی نے انسپکٹر کرائم ششی کانت اور کانسٹیبل مکیش کو لائن حاضر کردیا ۔ انچارج انسپکٹر رمیش بھردواج جن کا کاس گنج کوتوالی کے امان پور سے تبادلہ کیا گیا تھا، نے ایک دن پہلے ہی اپنا عہدہ سنبھال لیا ہے۔









