اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

پروفیسر بھیم سنگھ: ناکام سیاستدان ، کامیاب قانون دان

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
پروفیسر بھیم سنگھ: ناکام سیاستدان ، کامیاب قانون دان
62
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:افتخار گیلانی

شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور میں 70اور 80کی دہائی میں زمانہ اسکول کے دوران شیخ محمد عبداللہ کی مضبو ط شخصیت اور حکومت کے خلاف دو توانا آوازوں سید علی گیلانی اور عبدالغنی لون کو تو جلسے ، جلوسوں میں دیکھنے کا موقع ملتا تھا، مگر اپوزیشن کی دیگر شخصیات پروفیسر بھیم سنگھ،عبد ا لرشید کابلی، جنک راج گپتا، دھن راج برگوترا اور گردھاری لال ڈوگرہ جیسے افراد کے ناموں سے خبروں اور ریڈیو سے اسمبلی کی کاروائی کی روداد سننے سے کان آشنا ہو گئے تھے۔ ان میں سے بھیم سنگھ سے بعد میں دہلی میں با المشافہ ملاقات اور تعلقات کا ایک سلسلہ قائم ہوگیا۔ ریاست جموں و کشمیر کی یہ توانا آواز ، 31مئی کو جموں میں 81برس کی عمر میں خاموش ہوگئی۔ ایک منفرد شخصیت کے حامل ہونے کی وجہ سے وہ ایک دانشور، مصنف، وکیل، سیاسی کارکن، ہمہ وقت احتجاج کرنے والا ، غرض بہت سی چیزیں سمیٹے ہوئے تھے۔

90کی دہائی میں جب میں اعلیٰ تعلیم کیلئے نئی دہلی وارد ہوا، تو ان کو فلسطین اور عرب دنیا کے حقوق کیلئے آئے دن دھرنا دیتے ہوئے اور مغربی دنیا کی سامراجیت کے خلاف برسرپیکار پایا۔ گو کہ ایک کٹر ڈوگرہ قوم پرست ہونے کے ناطے اور 19 ویں صدی کے مشہور ڈوگرہ سپہ سالار جنرل زور آور سنگھ کے خاندان سے نسبت کی وجہ سے کشمیری مسلمانوں سے انکا خاصا مباحثہ ہوتا تھا، مگر میں نے محسوس کیا کہ وہ دیگر ڈوگرہ قوم پرستوں کی طرح فرقہ پرست نہیں تھے۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کی وجہ سے ان کا مسلم دانشوروں سے قریبی تعلق تھا اور اس یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کے سرگرم رکن بھی تھے۔ وہ آخری ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے فرزند ڈاکٹر کرن سنگھ اور آزاد کشمیر کے سابق صدر و وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان کو اپنا سیاسی گرو مانتے تھے۔

دہلی کی بد نامہ زمانہ تہاڑجیل میں ایام اسیری گذارنے کے دوران میں نے دیکھا تھاکہ پاکستانی قیدیوں کی حالت سب سے زیادہ قابل رحم ہوتی تھی۔ ان میں سے اکثر ویزا کی معیاد سے زیادہ بھارت میں رہنے، نادانستہ بارڈر کراسنگ کرنے کے بعد اپنی سزا کی معیاد مکمل ہونے کے باوجود قید و بند کی زندگی گذاررہے تھے۔ ایک تو ان کی ملاقات نہیں آتی تھی، دوسرا کوئی وکیل ان کا کیس ہاتھ میں لینے کا روادار نہیں تھا۔ ایک بار جب ملک بھر کے جیلوں میں بند پاکستانی قیدیوں کو سفارتی کونسلنگ کے لئے دہلی کے تہاڑ جیل میں کھدیڑ کر لایا گیا تو ان میں ایک ذہنی طور پر معذور 45 سالہ قیدی بہاء الدین بھی تھا ، جس کو ہمارے ہی وارڈ میں رکھا گیا تھا۔ وہ بیچارہ اس وہم و گمان میں تھا کہ وہ پاکستان کی کسی جیل میں بند ہے۔ بارڈرسیکورٹی فورسزکے اہلکاروں نے اسے راجستھان میں غلطی سے سرحد پار کرکے بھارتی علاقے میں داخل ہوجانے کے بعد گرفتار کرلیا تھا۔کھیتوں میں مزدوری کرکے اپنی زندگی کی گاڑی کھینچنے والا بہاء الدین یہی سمجھتا رہا تھا کہ اسے پاکستانی فوج نے اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ انہوں نے تھک ہار کر اسے یہ سمجھانے کی کوشش ترک کردی ہے کہ وہ پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت کی جیل میں ہے۔بہاء الدین بار بار صرف یہی رٹ لگاتا رہتا تھا کہ وہ کھیت میں کام کرنے کے بعد جب گھر لوٹ رہا تھا تو پاکستانی آرمی نے دشمنی نکالنے کے لئے اسے پکڑ کر قید کردیا۔اس کا کہنا تھا کہ اس نے کچھ فوجیوں کو دیکھا اور ان سے پینے کے لئے پانی کی درخواست کی لیکن پانی کے بجائے اسے جیل کی کال کوٹھری مل گئی۔بہاء الدین اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا کہ یہ فوجی بھارتی بارڈر سیکورٹی کے اہلکار تھے ۔ اسے صرف اور صرف اپنے گائوں کے مکھیا فتح سلیمان خیل اور اپنے ایک پڑوسی فیض محمد کا نام یاد رہ گیا تھا۔

کئی حقوق انسانی کے علمبرداروں اور بھارت پاکستان امن کے داعیوں کے دروازوں پر دستک دینے کے بعد باوجود جب کہیں بھی شنوائی نہیں ہوئی اور ادراک ہوا کہ ان افراد کا ایکٹویزم چاہے امن کی آشا یا کوئی اور نعرہ ہو، بس اخباری بیانات اور فوٹو کی اشاعت تک ہی محدود رہتا ہے ، تو ایک دن دہلی کی آئی این آیس بلڈنگ میں اپنے دفتر کے مقابل وٹھل بائی پٹیل ہائوس میں پروفیسر بھیم سنگھ کے دفتر پہنچا۔گراونڈ فلور پر ان کے دفتر کے باہر اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی ،جموں و کشمیر کا بورڈ بھی آویزاں ہوتا تھا۔ پروفیسر صاحب نے فوراً ہی اپنے دست راست کٹھوعہ کے وکیل بی ایس بلوریا کو طلب کیا اور ان کو بتایا کہ وہ میرے ساتھ بیٹھ کر تفصیلات اکھٹی کرکے جلد ہی ایک پیٹیشن تیار کرلیں۔ چند ماہ کی عرق ریزی کے بعد ایک ہزار قیدیوں کی تفصیلات اکھٹی ہوگئی، جو سزا مکمل ہونے کے باوجود جیلوں میں تھے۔ خیر پروفیسرصاحب اور بلوریا نے 2005میں رٹ پیٹیشن نمبر 310سپریم کورٹ میں فائل کی۔ عدالت نے اسکو سماعت کیلئے منظور کرنے کے بعد اگلے کئی برسوں تک حکومت کو کئی احکامات صادر کئے، جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس کی وجہ سے 800قیدیوں کو اگلے ایک سال تک رہائی نصیب ہوئی۔

اس تگ و دو کی وجہ سے 2007میں دونوں ممالک نے ججوں کی ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی، جس نے 2011تک کراچی، لاہور، راولپنڈی، امرتسر، جے پور، جودھ پور اور دہلی کی تہاڑ جیل کا دورہ کرکے قیدیوں کی حالت زار کا مشاہدہ کرکے سفارشات پیش کی۔ 2014میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد دیگر میکانزم کی طرح یہ کمیٹی بھی غیر فعال ہو چکی ہے۔ مگر بھیم سنگھ اور انکی ٹیم نے سپریم کورٹ میں اس معاملے کی شنوائی برقرار رکھی۔ 2018میں حکومت نے عدالت کو بتایا کہ 250قیدی میں سے 59 ایسے ہیں، جن کی شہریت کی تصدیق نہیں ہو پارہی ہے۔ ان میں 35ایسے ہیں ، جو دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں۔ ۔ ان میں سے کئی تو گو نگے اور بہرے ہیں ۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ یہ اپنا نام تک بتانے کی حالت میں نہیں ہیں۔پولیس نے بھی چارج شیٹ اور دیگر کاغذات میں انکا نام گونگا ولدیت نامعلوم درج کی ہے۔ لاہور کے باٹا پور کا رہنے والا 32سالہ محمد اعجاز 1999 سے تہاڑ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا۔وہ ہریانہ اور دہلی میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے ایک باضابطہ اور قانونی پاکستانی پاسپورٹ پر بھارت آیا تھا۔4 اکتوبر 1999 کو دہلی میں اس کے ایک پڑوسی اسلم نے محبت کی نشانی تاج محل دکھانے کے لئے آگرہ چلنے کی پیش کش کی۔اسلم نے اعجاز کی سفری دستاویزات لے لیں اور اس سے وعدہ کیا کہ وہ حکام سے آگرہ جانے کی اجازت لے لے گا۔لیکن اسلم دستاویزات لے کر جانے کے بعد دوبارہ پلٹ کر نہیں آیا اور پولیس نے اعجاز کو گرفتار کرلیا۔اعجاز عدالت سے بار بار یہ درخواست کر رہا تھا کہ کم از کم سمجھوتہ ایکسپریس کے ذریعہ اس کے دہلی آنے کے ریکارڈ پر ایک نگاہ تو ڈال لیں لیکن عدالت نے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی، تاآنکہ بھیم سنگھ اور بی ایس بلوریا نے اس کیس کی پیروی کی۔

قیدیوں میں پانچ بچے زبیر (5سال)‘ سہیل(9 سال ) بھی تھے، جو اپنی ماں سلمہ بیگم کے ساتھ جیل میں بند تھے۔ اسی طرح 5سالہ آمنہ ‘ 8 سالہ سہیل اور 10سالہ عائشہ بھی اپنی والدہ ممتاز کے ساتھ قید و بند کی زندگی گذارنے کے لئے مجبور تھے۔کراچی کی رہنے والی روبی کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں اس کے تین بچے لاپتہ ہوگئے تھے۔مطلقہ اور بنگلہ دیشی شوہر کے طرف سے گھر چھوڑ کر چلی جانے کے لئے مجبور کردی گئی روبی جعلی دستاویزات کے ذریعہ دہلی سے کراچی جانے کی کوشش کررہی تھی۔26 جولائی 2004 کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر اترنے کے بعد اسے جو شخص دہلی لے کر آیا تھا اس نے راجستھان جانے والی ایک ٹرین پر بچوں کے بغیر ہی اسکو سوار کردیا۔ اپنے بچوں کو نہ پاکر وہ گھبرا گئی اور اسی گھبراہٹ اور افراتفری میں پولیس کے ہتھے چڑھ گئی۔اسکے نالے شقی القلب انسان کا کلیجہ بھی چھلنی کردیتے تھے۔

مصنف اور صحافی ظفر چودھری کے مطابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے 70کی دہائی میں بھیم سنگھ کو شیخ محمد عبداللہ کے مقابل جموں کی آواز کے بطور متعارف کرنے کی کوشش کی۔ موجودہ حکمران جماعت ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرح وہ بھی جموں و کشمیر میں کشمیری سیاستدانوں کی برتری ختم کرنے یا ان کو ٹکٹ دینے کی خواہاں تھیںمگر اندرا گاندھی کا بھیم سنگھ پروجیکٹ کام نہیں کر پایا۔1973 میں انہیں اندرا گاندھی نے جموں و کشمیر میں یوتھ کانگریس کا صدر مقرر کیا،پھر 1977 میں انڈین یوتھ کانگریس کے نائب صدر اور آخر میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکرٹری کے طور پر مقرر کیا تھا۔ کانگریس سے الگ ہونے کے بعد انہوں نے اپنی ’پینتھرس پارٹی کی بنیادی رکھی۔ اس پارٹی کے قیام کے بعد بقول ظفر چودھری اسمبلی کے فلور پر شیخ عبداللہ نے ان سے پوچھا تھا :’’ آپ تو ایک مہذب انسان ہیں، آپ جانور کے طور پر اپنی پہچان کیوں بنانا چاہتے ہیں۔ــ‘‘ بھیم سنگھ نے جواب دیا کہ ’’انسانو ں کو شیر سے بچانے کیلئے پینتھر یعنی چیتے کو باہر آنا پڑا۔‘‘ شیخ عبداللہ اپنے آپ کو شیر کشمیر کہلوانا پسند کرتے تھے۔

مجھے یاد ہے کہ جموں اور کشمیر میں پنچایت سے لے کر پارلیمنٹ تک ہر الیکشن بھیم سنگھ نے لڑا ہے ۔ مگر ان کو کبھی کوئی بڑی کامیابی نہیں ملی۔ تقریباً ہر الیکشن کے بعد، بھیم سنگھ نے عدالتوں میں جا کر نتائج کو چیلنج کیااور الزام لگایا کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی۔ 2002 کے جموں اور کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں، بھیم سنگھ کی قیادت میں پینتھرس پارٹی نے اپنے مضبوط علاقے ادھم پور ضلع میں تمام سیٹیں جیت لیں، اور پی ڈی پی اور کانگریس پارٹی کے ساتھ مل کر حکمران اتحاد میں شامل ہوگئے۔ بعدمیں 2009کے بعد بی جے پی نے ان کے سیاسی گڑھ پر قبصہ جما لیا۔

شیخ عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے خلاف لگتا تھا کہ وہ ہمہ وقت بھرے رہتے تھے۔ ان کی کئی کمزور رگیں ان کی فائلوں میں دبی ہوئی تھیں۔ اسی لئے کئی افراد ان کی تشبیہ سبرامنیم سوامی کے ساتھ دیتے تھے، جو کانگریس اور گاندھی خاندان کی مخالفت میں آئے دن کوئی نہ کوئی پٹاخہ لئے حاضر ہوتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد کے پاس رام نگر میں ہزاروں ایکڑ زمین تھی جسے 1951 میں وزیر اعظم شیخ عبداللہ کی حکومت نے بغیر کسی معاوضے کے زبردستی لے لیا تھا، جس سے وہ اور اس کے دیگر گیارہ بہن بھائیوں کو بھوکا رہنا پڑا۔انہیں پہلی بار 1953 میں جیل بھیجا گیا تھا جب وہ ابھی ایک طالب علم تھے جب انہوں شیخ عبداللہ پر کنفیکشنری پھینک دی تھی۔ اس وقت بھیم سنگھ کے والد ٹھاکر بیربل جموں پرجا پریشد پارٹی کے ساتھ جموں میں حکومت کی زمینی اصلاحات کے خلاف ریلی کر رہے تھے ۔ انہوں نے موٹر سائیکل پر 130ممالک کا سفر بھی کیا۔ موریطانیہ کے راستے مراکش سے سینیگال تک موٹر سائیکل پر صحارا کو عبور کرنے والے وہ غالباً پہلے شخص تھے۔ اپنے سفر کے دوران بھیم سنگھ نے یونیورسٹی آف لندن میں ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی۔ اور 1971 میں یونیورسٹی آف لندن یونین کے سکریٹری بھی منتخب ہوئے۔ وہ بھارت فلسطین فرینڈشپ سوسائٹی کے چیئرمین تھے۔

اگست 2000میں یاسر عرفات جب بھارت کے ایک روزہ دورہ پر آئے تھے، جو ان کا آخری دورہ بھی ثابت ہوا۔ ان کے اعزاز میں دی گئی دعوت میں عرفات کو قریب سے دیکھنے اور ہاتھ ملانے کیلئے لوگوں کی ایک لمبی لائن لگی تھی۔ بھیم سنگھ نے دیکھا کہ میں بھی آگے جانے کیلئے تگ و دو کر رہاہوں، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر عرفات کے پاس لیجاکر ان کو غالباً مذاق میں کہا کہ’’ ایک اور مقبوضہ علاقے (کشمیر) کا باسی آپ سے ملنے کا متمنی ہے۔‘‘

پروفیسر بھیم سنگھ تقریباً ہر ماہ دہلی کے کانسٹیچوشن کلب کے ریسٹورنٹ میں لنچ پر مدعو کرکے ایک پریس بریفنگ کا اہتمام کرتے تھے۔ اس پریس بریفنگ میں پی ٹی آئی سے سمیر کول، یواین آئی سے شیخ منظور، انڈین ایکسپریس سے آشا کھوسہ اور کشمیر ٹائمز کے دہلی بیورو کی نمائندگی کرتے ہوئے میں حاضر ہوتا تھا۔ ان کے دفتر کی کوششوں کے باوجود اس پریس کانفرنس میں چار افراد کے علاوہ اور کوئی نہیں آتا تھا۔ جولائی 2000میں جب سرینگر میں حزب المجاہدین کے آپریشن کمانڈر عبدالمجید ڈار کے سیز فائر کا اعلان کیا، تو اسی دن دہلی میں ان کی پریس کانفرنس بھی تھی۔ جس کی اطلاع کئی روز قبل انہوں نے دی تھی۔ چینلوں کا طوفان آچکا تھا۔ پی ٹی آئی نے صبح ڈائری میں ان کی پریس کانفرنس کا ذکر کیا تھا۔ بس کیا تھا کہ ایک ہجوم کانسٹیچوشن کلب وار د ہوگیا تھا۔ مروت کے طور پر انہوں نے سب کو کھانا کھلایا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس ریسٹورنٹ کی بل ادا کرتے ہوئے ان کو کئی ماہ لگے اور دانتوں پسینہ آگیا۔ اس کے بعد انہوں نے یہ سلسلہ بند کیا اور پھر پریس بریفنگ اپنے دفتر میں دوپہر کی چائے پلاتے ہوئے دیتے تھے

۔

عدالت میں کشمیر ی اور پاکستانی قیدیوں کی معاونت کرنے اور عالمی مسلم مسائل و فلسطین کو اجاگر کرنے کی حد تک تو بھیم سنگھ کا ایکٹوزم سمجھ میں آتا تھا، مگر کشمیر کے حوالے لگتا تھا کہ وہ خود بھی کنفیوزتھے۔ کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے وہ اولین مخالفین میں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین ہند کی دفعہ 370اور35(اے) کی وجہ سے جموں و کشمیر کے عوام آئین ہند میں درج بنیادی حقوق کے حقدار نہیں ہیں۔ ان کو لگتا تھا کہ اس خصوصی پوزیشن کی وجہ سے مقامی انتظامیہ قیدیوں کو بغیر چارج کے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیلوں میں بند رکھتی ہے۔ رائے شماری اور کشمیر ی قوم پرستی کے وہ مخالفین میں تھے، مگر خود ڈوگرہ قوم پرستی کے گرویدہ تھے۔ وہ جموں کو سیاسی طور پر با اختیار بنانے کے نقیب تھے۔ ان کو لگتا تھا کہ وادی کشمیر اپنی عددی بل بوتے پر جموں کے حق کو غصب کئے ہوئے ہے۔ گو کہ وادی کشمیر اور کشمیریوں کو بے اختیار بنانے کے ہر نعرے کی حمایت کرنے کی وجہ سے سیاسی طور پر وہ کشمیر میں غیر مقبول تھے، مگر پاکستانی زیر انتظام یا آزاد کشمیر کے سیاستدانوں میں وہ خاصے مقبول تھے۔

ان کی کاوشوں سے مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عبدالقیوم خان نے 2005 اور 2007میں نئی دہلی کا دورہ کرکے ان کی طرف سے منعقد ہارٹ ٹو ہارٹ کانفرنس میں شرکت کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی۔ ایسا لگتا تھا کہ سردار صاحب ، کشمیری لیڈروں خاص طور پر حریت کانفرنس کے بجائے ان کوزیادہ فوقیت دیتے تھے اور لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف اپنی سیاسی زمیں ان کے ذریعے ہموار کرنا چاہتے تھے۔ د عوتوں اور مروتوں کی طرح ان کی لغزشیں بھی بے شمار تھیں، کشمیر کے سوال پر ان سے خاصا بحث و مباحثہ ہوتا تھا، مگر وہ اسکو کبھی عناد کا ذریعہ نہیں بناتے تھے۔ ہمیشہ جہاں بھی ملاقات ہوتی تھی، گرم جوشی سے ملتے تھے۔

پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے سلسلے میں ان کی کاوشیں قابل قدر اور حوصلہ افزا تھیں، جو بھارت پاکستان دوستی کی دکانیں چلانے والوں ، تقریریں کرنے والوں اور موم بتیاں جلانے والوں سے کئی گنا عملی اور بہتر تھیں۔ امید ہے کہ ان کے شاگرد خاص طور پر بی ایس بلوریا ان کے اس احسن نقش قد م پر چلتے رہیں گے اور مظلوموں کی داد رسی کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN