چنڈی گڑھ :(ایجنسی)
پنجاب اسمبلی انتخابات لڑ رہی کسان تنظیموں کے ’سنیکت کسان مورچہ‘ سے معطلی کو لے کر کسان لیڈروں کے درمیان تکرار بڑھنے لگی ہے۔ پنجاب کے کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایس کےایم (سنیکت کسان مورچہ) نے 23 تنظیموں کو معطل کر رکھاہے۔ جبکہ ان میں سے صرف آٹھ تنظیمیں ہی براہ راست الیکشن میں کودی ہیں۔ کسان لیڈروںکا کہنا ہےکہ اگرکسینے ایس کے ایم کے قوانین کی خلاف ورزی کیا ہے تو اس کی ہے تو اس کی سزا شخص کو ملنی چاہئے نہ کہ تنظیم کو۔ ایس کے ایم کے اس فیصلے خلاف پنجاب کے دو درجن سے زیادہ کسان تنظیموں نے رابطہ کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ میٹنگ فروری کے آخری ہفتے یا مارچ کے شروع میں ہو سکتی ہے۔ معطلی کے علاوہ پنجاب کی کسان تنظیمیں ’سنیکتکسان مورچہ‘ کی ‘’سمانوئے سمیتی‘ کی توسیع کے لیے اپنا موقف پیش کریں گی۔
’سنیکت سماج مورچہ‘ ے سو سے زیادہ سیٹوں پر امیدواراتارے
پنجاب کی کسان تنظیموں کےذریعہ تشکیل دی گئی سیاسی پارٹی ’سنیکت سماج مورچہ‘ کی قیادت بلبیر سنگھ راجیوال کررہے ہیں۔ ان کے ساتھ بھارتیہ کسان یونین، ہریانہ کے صدر گرنام سنگھ چڈونی کی ’سنیکت سنگھرش پارٹی‘ بھی آگئی ہے۔ ’سنیکت سماج مورچہ‘ نے سو سے زیادہ سیٹوںپر اپنےامیدوار وںکااعلان کردیاہے۔ مورچہ نے تمام 117 سیٹوںپر اپنےامیدوار اتارنے کااعلان کیا تھا۔ حالانکہ کسان آندولن کےدوران ایس کے ایم نے طے کیا تھا کہ کوئی بھی ممبرکسی سیاسی پلیٹ فارم پر نہیںجائےگا۔ نہ ہی کسی سیاسی لیڈر کو ایس کے ایم کے منچ پر جگہ ملےگی۔
تحریک ختم ہونے کے بعد ایس کے ایم نے کہا تھا کہ مورچہ کا نام کسی بھی سیاسی سرگرمی میں شامل نہیں کیاجائےگا۔ اگر کوئی رکن ان قوانین کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گزشتہ سال جب گرنام سنگھ چڈونی نے پہلی بار الیکشن لڑنے کی بات کہی تو انہیں کچھ وقت کے لیے معطل کر دیا گیاتھا۔ اس کے بعد جب یوگیندر یادو لکھیم پور کھیری میں بی جے پی کارکن کے گھر گئے تو انہیں بھی ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔
7 فروری کو چکہ جام
‘’کرتی کسان یونین‘ کی ریاستی کمیٹی کے رکن رامندر سنگھ نے کہا کہ کسانوں کی تحریک کے آغاز سے لے کر دہلی سے واپسی تک پنجاب کی کسان تنظیموں نے اس میں خصوصی تعاون کیا ہے۔ اتوار کو پنجاب کی کسان تنظیموں کی میٹنگ بلائی گئی تھی۔ اس میں 32 میں سے 23 تنظیموں نے حصہ لیا ہے۔ متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ 7 فروری کو پنجاب بھر میں دو گھنٹے کا چکہ جام ہو گا۔ آلو کی تباہ شدہ فصل کے معاوضے اور ریاست میں اسکول کھولنے کے مطالبے کے بارے میں حکومت کو متنبہ کیا جائے گا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی تفصیل سے بات کی گئی کہ ایس کے ایم نے پنجاب کی کسان تنظیموں کو معطل کر کے غلط عمل شروع کر دیا ہے۔ ایک شخص کو معطل کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی تنظیم کو معطل کرنا درست نہیں۔ پنجاب میں صرف آٹھ کسان تنظیمیں الیکشن لڑ رہی ہیں۔ کوئی دوسری تنظیم کسی کی حمایت میں ہو سکتی ہے۔ اس کوتاہی پر شخص کو معطل کریں، ادارے پر کارروائی غلط ہے۔
پنجاب کی کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایس کے ایم کو ان کی بات پر دھیان دینا پڑے گا۔ مورچہ کی رابطہ کمیٹی کے ارکان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ پنجاب کی کسان تنظیموں کو اس میں قابل احترام نمبر اور جگہ ملے۔ مورچہ کی نئے سرے سے تشکیل کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔











