لکھنؤ : (ایجنسی)
گزشتہ 10 ماہ سے کسان رہنما راکیش ٹکیت کی قیادت میں کسان مرکزی حکومت کے منظور کردہ تین زرعی قوانین کے خلاف دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں سنیکت کسان مورچہ کی جانب سے یوپی کے مظفر نگر میں کسان مہا پنچایت کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ایک انٹرویو کے دوران جب راکیش ٹکیت سے یوپی کی سیاست کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہاں ، میں سیاست کرتا ہوں۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یوپی میں بی جے پی کو 140 سے زیادہ سیٹیں نہیں آئیں گی ۔
ایک انٹرویو کے دوران راکیش ٹکیت سے پوچھا گیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس بار بی جے پی کو ووٹ نہیں ملیں گے۔ آپ کے خیال میں اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کتنی سیٹیں جیت سکتی ہے؟ اس سوال پر کسان رہنما نے کہا کہ انہیں 140 سے زیادہ سیٹیں نہیں ملیں گی۔
یوپی میں منعقدہ پنچایت انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کسان لیڈر نے کہا کہ اس میں انہیں کتنی سیٹیں ملی ہیں۔ انہوں نے بی جے پی پر اترپردیش کے ضلع پنچایت انتخابات میں دھمکی دے کر ووٹ لینے کا الزام لگایا۔ اینکر نے ان سے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کسی کسان رہنما نے اتنی مقبولیت حاصل کی جتنی آپ نے ایک سال میں حاصل کی ہے۔ آپ ایک اسٹار کسان لیڈر بن گئے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ہم اسٹار نہیں ، ہم کسان ہیں جو ہل چلاتے ہیں۔ ان کے جواب پر کہا گیا کہ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ آپ اسٹار بن گئے ہیں؟ راکیش ٹکیت اینکر کے اس سوال پر کہنے لگے کہ میں ٹی وی نہیں دیکھتا اور نہ ہی اخبارات پڑھتا ہوں۔ نہ ہی میں نے بیرونی دنیا دیکھی ہے۔ جاری کسان تحریک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
اینکر نے اس سے پوچھا کہ یہ دن کب آئے گا؟ انہوں نے کہا کہ جس دن آپ کے دن سدھر جائیںگے ، اس دن یہ دن آجائے گا ۔ ان سے اس انٹرویو کے دوران کہا گیا کہ آپ کہتے تھے کہ میں سیاست میں نہیں آؤں گا۔ اب بنگال کی طرح اترپردیش کے الیکشن میں اتر گئےہیں؟ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ بی جے پی کو ہرانے کے لیے یوپی کے میدان میں آرہے ہیں ؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جو بھی اس ملک میں ووٹ دیتا ہے کہ وہ سمجھئے الیکشن لڑ رہاہے ۔ اس لئے میں بھی سیاست کررہاہوں ۔









