نئی دہلی :(ایجنسی)
زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے کسان تنظیموں کو قریب ایک سال ہوچکےہیں۔ ایسے میں 22 نومبر کو بھارتیہ کسان یونین کےقومی ترجمان راکیش ٹکیت مہاپنچایت کرنے لکھنؤ جانے والے ہیں۔ اس کو لے کر انہوں نے یوگی سرکار کو آگاہ کیا ہے کہ کسان لکھنؤ آرہے ہیں، جو تیاری کرنی ہے ، وہ کر لیں۔ بتادیں کہ یہ مہا پنچایت لکھنؤ ریلوے اسٹیشن کے نزدیک ایکو گارڈن میں ہوگی۔
ہماری میٹنگ پرامن ہو گی۔ حالانکہ اس بیان کو لے کر اب راکیش ٹکیت نے کہا کہ ہم وہاں (لکھنؤ ) کوئی جنگ لڑنے نہیں جا رہے ہیں ،یوگی ریاست کی وزیر اعلیٰ ہیں،انہیں بتانا تو پڑے گا کہ کسان آرہے ہیں۔ ہماری میٹنگ پرامن ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ کسان بات چیت کریں گے۔ اس کی جانکاری انہیں پہلے سے ہونی چاہئے۔ اس دوران دھان خرید، اجے مشرا ٹینی کا معاملہ اور پولیس کے معاملے پر ہم اپنی بات رکھیں گے۔
’’بکل تارنے‘‘ والے بیان پر انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہم پرامن بات کریں گے۔ دوسری طرف یوگی کے کسانوں کا خیر مقدم کرنے کے بیان پر ٹکیت نے کہا کہ انہیں کسانوں کا استقبال کرنا چاہیے۔ ٹکیت نے بتایا کہ 29 نومبر کو 500 کسان دہلی پارلیمنٹ کے لیے روانہ ہوں گے۔
اس کے علاوہ اگلے سال ہونے والے یوپی انتخابات سے پہلے انہوں نے جناح کے بارے میں ہنگامہ آرائی پر کہا کہ پانچ سالوں میں ایسے انتخابی لیڈر آتے ہیں جو لوگوں کو جناح، ذات پات اور مذہب میں الجھاتے ہیں۔ ان سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگ پانچ سال میں اُڑنا سیکھ جاتے ہیں۔
گجرات کے جام نگر میں ناتھورام گوڈسے کا مجسمہ نصب کرنے پر ٹکیت نے کہا کہ گوڈسے مہاتما گاندھی کا قاتل تھا۔ وہ بی جے پی کی طرف سے قابل احترام ہیں۔ گوڈسے بی جے پی کے گاندھی ہیں۔ اس کے علاوہ راکیش ٹکیت نے کنگنا کے 2014 میں آزادی حاصل کرنے کے بیان پر کہا کہ بہت سے لاعلم لوگ ہیں۔ ایسے لوگوں کو ایوارڈ دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو انعام دیا جاتا ہے۔









