نئی دہلی : (ایجنسی)
وزیر اعظم نریندر مودی اپنے امریکی دورے پر ہیں ، جہاں انہوں نے امریکی نائب صدر کملا ہیرس سے ملاقات کی۔ اب پی ایم مودی صدر جو بائیڈن کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کرنے والے ہیں، جس میں کئی امور پر بات چیت ہونی ہے۔ لیکن اس دوران کسان رہنما اور بی کے یو کے ترجمان راکیش ٹکیت نے امریکی صدر جو بائیڈن کے لیے ایک ٹویٹ کیا ہے، جس میں انہوں نے بائیڈن سے کہا ہے کہ وہ پی ایم مودی کے ساتھ کسانوں کی تحریک کے مسئلے پر بات کریں۔
کسان رہنما راکیش ٹکیت نے اپنے ٹویٹ میں پوری تحریک کے دوران کسانوں کی موت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا :
’پیارے امریکی صدر ، ہم ہندوستانی کسان تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ،جنہیں نریندر مودی کی سرکار لائی ہے ۔ پچھلے 11 ماہ کی تحریک میں اب تک 700 کسانوں کی موت ہو چکی ہے۔ ہمیں بچانے کے لیے ان کالے قوانین کو رد کیا جانا چاہئے ۔ جب بھی آپ پی ایم مودی سے ملیں تو براہ مہربانی ان خدشات پر بھی غور کریں ۔‘
بتادیں کہ گزشتہ 11 ماہ سے کسان دارالحکومت دہلی کی سرحدوں پر مظاہرے کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں ایم ایس پی کی ضمانت دی جائے اور تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسان رہنماؤں کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ قوانین کو منسوخ نہیں کریں گے جبکہ کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان کے مطالبات کے سامنے جھکنا ہوگا۔









