نئی دہلی :(ایجنسی)
بھارت کی 5 ریاستوں یعنی اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور میں کل 690 نشستوں کے لیے ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ان ریاستوں میں اسمبلی انتخابات 7 مرحلوں میں ہوں گے۔
لیکن دوسری طرف کورونا کی تیسری لہر (کووڈ19-)بھی اپنی بھیانک شکل دکھا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ کورونا کی وبا کے درمیان کیسے محفوظ انتخابات کرانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے اس چیلنج سے نمٹنے کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے اور کہا ہے کہ انتخابات کورونا کے قوانین کے مطابق کرائے جائیں گے۔
15 جنوری تک جلسے جلوسوں پر پابندی
الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ ان انتخابات میں شامل ہر ملازم اور افسر کے لیے کورونا ویکسین کی دونوں ڈوز لگاہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بڑا اعلان کرتے ہوئے 15 جنوری تک جلسوں پر پابندی لگا دی ہے۔
اس میں کسی بھی قسم کے روڈ شو، سائیکل ریلی، بائیک ریلی اور نکڑ سبھا کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہر قسم کے جسمانی جلسوں پر پابندی 15 جنوری تک برقرار رہے گی۔ 15 جنوری کے بعد الیکشن کمیشن صورتحال کا جائزہ لے گا۔ الیکشن کمیشن نے تمام پارٹیوں سے ورچوئل میٹنگز کی اپیل کی ہے۔
ماسک، سینیٹائزر اور تھرمل اسکریننگ کا انتظام
الیکشن کمیشن ان انتخابات میں کورونا سے تحفظ کے لیے تیار نظر آرہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا نے کہا کہ ہر پولنگ اسٹیشن اور بوتھ پر ماسک، سینیٹائزر اور تھرمل اسکریننگ کے انتظامات کیے جائیں گے اور کووڈ- 19 سے متعلق تمام اصولوں اور پروٹوکول کا خاص خیال رکھا جائے گا۔
کورونا کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد بھی بڑھا دی ہے۔ اس بار انتخابات میں پہلے کے مقابلے مجموعی طور پر 16 فیصد زیادہ پولنگ اسٹیشن ہوں گے۔ پولنگ اسٹیشن کی کل تعداد 2 لاکھ 15 ہزار 368 ہو گی۔
انتخابات میں 80 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے علاوہ کووڈ سے متاثرہ مریضوں کے لیے پوسٹل بیلٹ کی سہولت بھی ہوگی۔ ووٹنگ سے پہلے ہر پولنگ اسٹیشن کو مکمل طور پر سینیٹائز کیا جائے گا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ انتخابات کووڈ کے رہنما خطوط کے مطابق کرائے جائیں گے اور اس وبا سے نکلنے کا یقین ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا :
’’یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے
ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتاہے ‘‘
چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا نے کہا کہ کورونا کے درمیان انتخابات کرانا ہمارے لیے ایک چیلنج ہے، لیکن ہم اس کے لیے تیار ہیں۔











