لکھنؤ :(ایجنسی)
وزیر اعظم نریندر مودی اتر پردیش میں ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیت کو یقینی بنانے کے ارادے سے یوپی اسمبلی انتخابات سے پہلے مسلسل اتر پردیش کا دورہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اسمبلی انتخابات سے قبل کئی اسکیموں کا سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاحی پروگراموں کے بہانے پوری ریاست میں بی جے پی کے حق میں ماحول بنانے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں۔ اترپردیش کو لے کر پی ایم مودی اور بی جے پی کتنی سرگرم ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پی ایم مودی تابڑتوڑ یوپی کا دورہ کررہے ہیں۔ اب اگلے 10 دنوں میں دوبارہ وزیر اعظم نریندر مودی اتر پردیش کے 4 دورے کرنے والے ہیں۔ جہاں پی ایم مودی 18 دسمبر کو شاہجہاں پور اور 21 دسمبر کو پریاگ راج میں ہوں گے، وہ 23 دسمبر کو وارانسی اور 28 دسمبر کو کانپور جائیں گے۔
یوپی انتخابات میں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے، اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی یوپی اسمبلی انتخابات سے قبل طوفانی دورہ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 18 دسمبر سے 28 دسمبر تک اتر پردیش کے مختلف علاقوں میں مزید چار دوےمجوزہ ہے۔ اگر پی ایم مودی کے آنے والے پروگراموں پر نظر ڈالی جائے تو وہ سب سے پہلے 18 دسمبر کو شاہجہاں پور میں گنگا ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ اس کے بعد 21 دسمبر کو وزیر اعظم نریندر مودی پریاگ راج میں ایک ریلی کریں گے، اس ریلی میں 2.5 لاکھ خواتین شرکت کریں گی۔ اتر پردیش حکومت کی اسکیم کے تحت آنے والی خواتین کو بھی اعزاز سے نوازا جائے گا۔
اس کے علاوہ 23 دسمبر کو وہ اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی جائیں گے، جس میں امول دودھ پلانٹ سمیت 1550 کروڑ کی اسکیموں کا آغاز کریں گے۔ اس کے بعد مہینے کے آخر میں پی ایم نریندر مودی 28 دسمبر کو کانپور جائیں گے، جہاں وہ کانپور میٹرو کا افتتاح کریں گے۔ اس کے علاوہ کچھ اور اسکیمیں بھی شروع کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی انتخابات کے بارے میں ممبران پارلیمنٹ سے رائے بھی لیتے رہتے ہیں۔ اسی پروگرام کے تحت صبح (جمعہ) اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ ناشتے پر بات کی ۔
غور طلب ہے کہ اس ماہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 7 دسمبر کو گورکھپور کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ایمس کا افتتاح کیا تھا۔ اس کے بعد 13 اور 14 تاریخ کو وہ اپنے پارلیمانی حلقہ وارانسی کے دورے پر گئے جہاں انہوں نے کاشی وشوناتھ کوریڈور کا افتتاح کیا اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ سے بات چیت کی۔ بتادیں کہ اگلے سال کے شروع میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے پی ایم مودی کے ان دوروں کو بہت اہم مانا جا رہا ہے۔









