تحریر: رچیت کمار
11 مارچ 2017 کی تاریخ تھی۔ ہفتہ کا دن تھا۔ اتر پردیش کے سیاسی گلیاروں میں زبردست ہلچل تھی۔ آخر کار 7 مرحلوں میں ہوئے یوپی اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے والے تھے۔ انتخابی دفاتر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں اور الگ الگ پارٹیوں کے ہزاروں کارکنان بھی نظریں جمائے کھڑے تھے۔
لوگوں کے گھروں میں ٹی وی سیٹ آن تھے۔ اس وقت یوپی کے سنگھاسن پر براجمان سماج وادی پارٹی سال 2012 میں مایاوتی کی بی ایس پی حکومت کو شکست دے کر اقتدار پر بیٹھی تھی اور دوبارہ حکومت بنانے کے دعوے کررہی تھی۔ وہ لمحہ بھی آیا، جب ای وی ایم کھلنے لگے اور دل کی دھڑکن بھی تیز ہونے لگی۔
گھڑی کی سوئی جب11 بجے تک پہنچی تو سب حیران ہوگئے، جس کا تصور شاید ہی کسی نے کی ہوگی۔ دوپہر ہوتےہوتے بی جے پی ہیڈ کوارٹر میںمٹھائیاں تقسیم کئے جانے لگیں، کارکنان جشن منانے لگے۔ 15 سال بعد یوپی کے اقتدار عوام نے بی جے پی کوسونپ دئے تھے۔ 403 اسمبلی سیٹوں میں سے 325 بی جے پی نے جیت لی تھیں۔ جبکہ ایس پی کو 54 اور بی ایس پی کو 19 سیٹیں ملی تھیں۔
لیکن اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی بات یہ تھی کہ بی جے پی نے ان مسلم اکثریتی علاقوں یا سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جن کی کسی کو توقع نہیں ہوگی۔ بی جے پی نے 82 میں سے 62 سیٹیں جیتی تھیں جہاں مسلم ووٹروں کی آبادی کا ایک تہائی حصہ ہے۔
2017 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج، جو بی جے پی نے نریندر مودی کے چہرے پر لڑے تھے، نوٹ بندی کے چار ماہ بعد آئے۔ یہ تھا مودی حکومت کا فیصلہ، جس پر اپوزیشن نے آج تک حملہ کیا۔ بڑے بڑے سیاسی پنڈت بھی یہ نہیں سمجھ پائے کہ یوپی کی مسلم اکثریتی سیٹوں پر بی جے پی کا ڈنکا کیسے بج گیا، حالانکہ پارٹی نے انتخابات میں ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ آئیے آپ کو ان سیٹوں کے بارے میں بتاتے ہیں جہاں مسلم ووٹروں کا اثر ہے اور سال 2017 میں بی جے پی نے وہاں سے کامیابی حاصل کی تھی۔
ووٹوں کی تقسیم کا ملا فائدہ
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تقریباً دو درجن ایسی سیٹیں تھیں جہاں مسلم ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کو پہنچا۔ ان سیٹوں میں مظفر نگر، شاملی، سہارنپور، بریلی، بجنور، میرٹھ کی سردھانا، گورکھپور کی خلیل آباد، امبیڈکر نگر کی ٹانڈہ، شراوستی ضلع کی شرواستی اورگینسار اور مرادآباد شامل ہیں۔
2013 فسادات کا مرکز رہی مظفرنگر کی میرا پور اسمبلی سیٹ پر بھی ووٹوں کی تین طرفہ تقسیم صاف نظر آئی تھی۔ سماج وادی پارٹی یہ سیٹ بی جے پی سے صرف 193 ووٹوں سے ہار گئی تھی۔ بی جے پی امیدوار اوتار سنگھ بھڈانہ کو 69,035 ووٹ ملے۔ جبکہ ایس پی کے لیاقت علی نے 68,842 حاصل کیے۔ دوسری طرف بی ایس پی کے نوازش عالم خان کو 38,689 ووٹ ملے۔
کہاں کون سا بی جے پی امیدوار کامیاب ہوا
میرٹھ کی سردھنا سیٹ پر بی جے پی امیدوار سنگیت سوم نے ایس پی کے اتل پردھان کو شکست دی تھی۔ جہاں سوم کو 97,921 ووٹ ملے تھے، وہیں پردھان کو 76,296 ووٹ ۔ بی ایس پی کے عمران قریشی 57,239 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے تھے۔
یہی اسکرپٹ 1.25 لاکھ مسلم آبادی والے دیوبند میں بھی آئی تھی۔ مسلم کمیونٹی ایس پی کے معاویہ علی اور بی ایس پی کے ماجد علی کے درمیان بٹی ہوئی دیکھی گئی تھی۔ نتیجہ کے طور پر بی جے پی کے برجیش پاٹھک نے 1,02,244 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ ماجد علی دوسرے اور معاویہ علی تیسرے نمبر پر رہے تھے۔
2012 میں انیس الرحمان نے مراد آباد دیہی علاقے کی مسلم اکثریتی نشست کانٹھ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن ایس پی ، بی ایس پی ، اے آئی ایم آئی ایم اورپیس پارٹی کے مسلم امیدواروں کےدرمیان مسلم ووٹ تقسیم ہوگیا اور انیس الرحمٰن 2,348ووٹوں کے معمولی فرق سےہار گئے۔ بی جے پی کے راجیش سنگھ کو 76,307ووٹ ملے تھے ۔ جبکہ انیس الرحمٰن کو 73,959۔ بی ایس پی کے محمد ناصر 43,820ووٹ کےساتھ تیسرےنمبرپر رہے تھے۔
ٹانڈہ میں ایس پی کے عظیم الحق پہلوان بی جے پی کی سنجو دیوی سے ہار گئے تھے۔ مرادآباد نگر میں بی جے پی کے آر کے گپتا نے ایس پی کے محمد یوسف انصاری کو 3,193 ووٹوں سے شکست دی تھی۔
فیض آباد کی رودولی سیٹ سے بی جے پی کے رام چندر یادو نے ایس پی کے عباس علی زیدی کو تیس ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔ شاملی کی تھانہ بھون سیٹ سے بی جے پی کے سریش کمار نے بی ایس پی کے عبدالوارث خان کو 90,995 ووٹ حاصل کر کے شکست دی تھی۔ بی جے پی کے رام پرتاپ نے اتراولی سیٹ سے 85,240 ووٹ حاصل کرکے ایس پی کے عارف انور ہاشمی کو شکست دی تھی۔
ان کے علاوہ جن سیٹوں پر بی جے پی کو مسلم ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ پہنچا تھا وہ ہیں لکھنؤ (مشرق)، لکھنؤ (سینٹرل)، علی گڑھ، سول خاص، نان پورہ، شاہ آباد، باہری، فیروز آباد، چاند پور اور کنڈیرکی شامل ہے۔
(بشکریہ: اے بی پی )










