پٹنہ :(ایجنسی)
ریلوے امتحان این ٹی پی سی پر طلبے کے زبردست احتجاج کے درمیان پٹنہ کے مشہور خان سر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان پر طلبہ کو اکسانے کا الزام ہے۔ خان سر نے خود پریس کانفرنس کرکے اس پورے ہنگامے پر بات کی ہے اور تمام خرابیوں کے لیے ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ کوذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے این ٹی پی سی کے طلبہ احتجاج کر رہے تھے۔ جن کی تعداد بہت زیادہ نہیں تھی اور حل کے منتظر تھے۔ لیکن آر آر بی نے اسے حل نہیں کیا، ساتھ ہی گروپ ڈی والوں کا دو امتحان لینے کے لیے کہہ دیا۔ اب گروپ ڈی میں تقریباً 1.5 کروڑ طلبہ ہیں جو اب احتجاج پر اتر آئے ہیں۔
سب سے بڑی غلطی آر آر بی کی ہے۔ پٹنہ راجندر نگر ٹرمینل پر ہنگامہ ہورہا تھا، وہاں آر آر بی کو آنا چاہیے تھا لیکن اسے چھوڑ کر تمام وہاں پہنچے یہاں تک کی کلکٹر ،بہار پولیس، ایس ایس پی کئی افسران وہاں گئے تھے، جبکہ آر آر بی کا آفس دو کلومیٹر کی دوری پر ہے ۔
انہوں نے کہا کہ، 80 لاکھ سے زیادہ طلباء نے ٹویٹ کیا لیکن آر آر بی نہیں جاگا، جب تک ایسی تخریب کاری نہیں ہوئی، تب تک آر آر بی نہیں جاگا۔ گزشتہ کئی سالوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے ایسا ہی ہواہے۔
خان سر نے کہا کہ گرفتار ہونے والے تمام طلبہ کو رہا کیا جائے۔ ہماری ٹیم ان تمام طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں قانونی مدد بھی فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم ان طلبہ کے موبائل بھی ٹھیک کروا رہی ہے جن کے موبائل خراب ہو گئے ہیں۔ کئی طلبہ کو کھانا بھی پہنچایا جا رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کئی سارے گاؤں لڑکے اس کی تیاری کر رہے تھے۔ ان کے دو سال کورونا کی وبا کی وجہ سے ضائع ہو گئے۔ انہیں پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا کہ امتحان کورونا کے بعد ہوگا۔ آر آر بی کے جو من چاہ رہاہے وہ ویسا کررہا ہے۔ کبھی بھی رزلٹ نکلتا ہے اور اچانک سے ہی ایگزام لے رہاہے ۔
آخر میںانہوں نے کہا کہ ریلوے کے وزیر کے پاس غلط معلومات ہیں کیونکہ وزیر ریلوے آر آر بی سے معلومات لے رہے ہیں اور یہ تمام غلطیاں آر آر بی نے کی ہیں۔ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر انہوں نے کہا کہ پورے ملک پر میرا اختیار نہیں ہے۔ بہار میں بیٹھ کر میں کنیا کماری تک کنٹرول نہیں کرسکتا ، میںنے آرا کے طلبہ کومنع کیا تھا وہاں کچھ نہیںہوا۔ گیاکو لے کر ویڈیو بنائی تھی لیکن وہ ویڈیو ہٹا دی گئی۔











